قَدِ افْتَرَیۡنَا عَلَی اللہِ کَذِبًا اِنْ عُدْنَا فِیۡ مِلَّتِکُمۡ بَعْدَ اِذْ نَجّٰنَا اللہُ مِنْہَا ؕ وَمَا یَکُوۡنُ لَنَاۤ اَنۡ نَّعُوۡدَ فِیۡہَاۤ اِلَّاۤ اَنۡ یَّشَآءَ اللہُ رَبُّنَا ؕ وَسِعَ رَبُّنَا کُلَّ شَیۡءٍ عِلْمًا ؕ عَلَی اللہِ تَوَکَّلْنَا ؕ رَبَّنَا افْتَحْ بَیۡنَنَا وَ بَیۡنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَ اَنۡتَ خَیۡرُ الْفٰتِحِیۡنَ ﴿۸۹﴾
ترجمۂکنزالایمان: ضرور ہم اللہ پر جھوٹ باندھیں گے اگر تمہارے دین میں آجائیں بعد اس کے کہ اللہ نے ہمیں اس سے بچایا ہے اور ہم مسلمانوں میں کسی کا کام نہیں کہ تمہارے دین میں آئے مگر یہ کہ اللہ چاہے جو ہمارا رب ہے ہمارے رب کا علم ہر چیز کو محیط ہے ہم نے اللہ ہی پر بھروسہ کیا اے رب ہمارے ہم میں اور ہماری قوم میں حق فیصلہ کر اور تیرا فیصلہ سب سے بہتر ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک (پھر تو) ضرور ہم اللہ پر جھوٹ باندھیں گے اگر اس کے بعد بھی ہم تمہارے دین میں آئیں جبکہ اللہ نے ہمیں اس سے بچایا ہے اور ہم مسلمانوں میں کسی کا کام نہیں کہ تمہارے دین میں آئے مگر یہ کہ ہمارا رب اللہ چاہے ۔ ہمارے رب کا علم ہر چیز کو محیط ہے، ہم نے اللہ ہی پر بھروسہ کیا۔ اے ہمارے رب! ہم میں اور ہماری قوم میں حق کے ساتھ فیصلہ فرمادے اور تو سب سے بہتر فیصلہ فرمانے والا ہے۔
{ اِنْ عُدْنَا فِیۡ مِلَّتِکُمۡ:اگر ہم تمہارے دین میں آجائیں۔} حضرت شعیب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی قوم کا جواب سن کر ان سے فرمایا تھا کہ’’کیا ہم تمہارے دین میں آئیں اگرچہ ہم اس سے بیزار ہوں ؟ اس پر انہوں نے کہا :ہاں پھر بھی تم ہمارے دین میں آ جاؤ ، تو آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا: ’’جب اللہ عَزَّوَجَلَّ نے تمہارے اس باطل دین سے ہمیں بچایا ہوا ہے اور تمہارے باطل دین کی قباحت اور اس کے فساد کا علم دے کر مجھے شروع ہی سے کفر سے دور رکھا اور میرے ساتھیوں کو کفر سے نکال کر ایمان کی توفیق دے دی ہے تو اگر اس کے بعد بھی ہم تمہارے دین میں آئیں تو پھر بیشک ضرور ہم اللہ عَزَّوَجَلَّ