جائیں تو ذلت کی گہری کھائیوں میں گرا دیتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ مسلم حکمرانوں اور مسلم رہنماؤں کے اعمال، اخلاق اور کردار کی درستی نے جہاں مسلم عوام کی سیرت و کردار کو بدل کر رکھ دیا وہیں غیر مسلم بھی اس سے بہت متاثر ہوئے اور ان میں سے بہت سے دامنِ اسلام سے وابستہ ہو گئے جبکہ بہت سے اسلام اور مسلمانوں کی دشمنی سے باز آ گئے اسی طرح جب مسلم حکمرانوں اور مسلم رہنماؤں کے اعمال، اخلاق اور کردار میں بگاڑ پیدا ہوا اور وہ عیش و طَرب اور لَہو ولَعب کی زندگی گزارنے میں مشغول ہو گئے تو مسلم عوام کی عملی اور اخلاقی حالت ا س قدر گر گئی کہ ہنو د ویہود تک ان کا حال دیکھ کر شرما گئے اوراسی وجہ سے کفار کے دلوں سے مسلمانوں کا خوف اور دبدبہ جاتا رہا اور وہ ایک ایک کر کے مسلمانوں کے مفتوحہ علاقوں پر قابض ہوتے چلے گئے اور آج مسلمانوں کا حا ل یہ ہے کہ وہ پچاس سے زائد ممالک میں تقسیم ہیں اور دنیا کے انتہائی قیمتی ترین وسائل کے مالک ہونے کے باوجود کفار کے قبضے میں ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اسلاف کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔
{ اَوْ لَتَعُوۡدُنَّ فِیۡ مِلَّتِنَا:یا تم ہمارے دین میں ا ٓجا ؤ۔} اس کا لفظی معنی یہ بنتا ہے کہ ’’یا تم ہمارے دین میں لوٹ آؤ‘‘ اس سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ مَعَاذَاللہ حضرت شعیب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پہلے ان کے دین میں داخل تھے تبھی تو انہوں نے آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو واپس لوٹ آنے کی دعوت دی ،مفسرین نے اس اشکال کے چند جوابات دئیے ہیں ، ان میں سے 3درج ذیل ہیں :
(1)…حضرت شعیب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر ایمان لانے والے چونکہ پہلے کافر تھے تو جب آپ کی قوم نے آپ کی پیروی کرنے والوں کو مخاطب کیا تو اس خطاب میں آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو بھی شامل کر کے آپ پر بھی وہی حکم جاری کر دیا حالانکہ آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام تو ان کے دین میں کبھی داخل ہی نہ ہوئے تھے۔ (1)
(2)…کافر سرداروں نے عوام کو شک و شبہ میں ڈالنے کیلئے اس طرح کلام کیا تاکہ لوگ یہ سمجھیں کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پہلے ان کے دین و مذہب پر ہی تھے ۔ حضرت شعیب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے انہیں جو جواب دیا کہ ’’کیا اگرچہ ہم بیزار ہوں ‘‘ یہ ان کے اس اِشتِباہ کے رد میں تھا۔ (2)
(3)…حضرت شعیب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کفر و شرک سے تو قطعاً دور و نُفور تھے لیکن ابتداء میں چھپ کر عبادت وغیرہ کرتے تھے جس کی وجہ سے ان کادین قوم پر ظاہر نہ تھا جس سے انہوں نے یہ سمجھا کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ان کے دین پر ہیں۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: ۸۸، ۲/۱۱۹۔
2…تفسیر کبیر، الاعراف، تحت الآیۃ: ۸۸، ۵/۳۱۶۔