Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
377 - 558
پر جھوٹ باندھنے والوں میں سے ہوں گے اور ہم میں کسی کا کام نہیں کہ تمہارے دین میں آئے مگر یہ کہ ہمارا رب اللہ عَزَّوَجَلَّ کسی کو گمراہ کرناچاہے تو کچھ بھی ہوسکتا ہے۔
شیطان انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو گمراہ نہیں کر سکتا:
	یاد رہے کہ گمراہ ہونے سے نبی عَلَیْہِ السَّلَام خارج ہیں کیونکہ وہ قَطعی معصوم ہوتے ہیں اور شیطان انہیں گمراہ نہیں کر سکتا ۔ رب عَزَّوَجَلَّ فرماتا ہے:
’’ اِنَّ عِبَادِیۡ لَیۡسَ لَکَ عَلَیۡہِمْ سُلْطٰنٌ ‘‘(1) 
ترجمۂکنزُالعِرفان:بیشک میرے بندوں پر تیرا کچھ قابو نہیں۔ 
	حضرت شعیب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا یہ فرمان کہ’’ ہمارا رب اللہ عَزَّوَجَلَّ چاہے تو کچھ بھی ہوسکتا ہے۔‘‘ در حقیقت اللہ تعالیٰ کی مَشِیَّت کے آگے سرِ تسلیم خَم کرنا ہے۔ 
{ وَسِعَ رَبُّنَا کُلَّ شَیۡءٍ عِلْمًا:ہمارے رب کا علم ہر چیز کو محیط ہے۔} یعنی جو ہو چکا اور جو آئندہ ہو گا سب چیزوں کو اللہ تعالیٰ اَزل سے ہی جانتا ہے لہٰذا سعادت مند وہی ہے جو اللہ تعالیٰ کے علم میں سعید ہے اور بد بخت وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے علم میں شَقی ہے۔ (2) 
	یہ آیت ان آیات کی تفسیر ہے جن میں فرمایا گیا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے، یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّکا علم اور اس کی قدرت گھیرے ہوئے ہے ورنہ اللہ تعالیٰ جسم و مکان سے اور اس اعتبار سے گھیرنے اور گھر نے سے پاک ہے۔ اس کی مزید تفصیل سورۂ نساء کی آیت نمبر126کی تفسیر میں ملاحظہ فرمائیں۔
{ عَلَی اللہِ تَوَکَّلْنَا:ہم نے اللہ ہی پر بھروسہ کیا۔} یعنی ہم نے ایمان پر ثابت قدم رہنے اور شریر لوگوں سے خلاصی پانے میں اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کیا ۔ (3)
توکل کاحقیقی مفہوم:
	توکل کا مفہوم یہ ہے کہ اسباب پر اعتماد کرتے ہوئے نتیجہ اللہتعالیٰ پر چھوڑ دیا جائے، توکل ترک ِاسباب کا نام نہیں بلکہ اسباب اختیار کرتے ہوئے مُسَبِّبُ الاسباب پر اعتماد کرنے کا نام ہے۔ حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…حجر:۴۲۔
2… خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: ۸۹، ۲/۱۲۰۔
3…روح البیان، الاعراف، تحت الآیۃ: ۸۹، ۳/۲۰۳۔