Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
374 - 558
پارہ نمبر…9                                                                                                                                     نواں پارہ               قَالَ الْمَلَاُ
قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیۡنَ اسْتَکْبَرُوۡا مِنۡ قَوْمِہٖ لَنُخْرِجَنَّکَ یٰشُعَیۡبُ وَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَکَ مِنۡ قَرْیَتِنَاۤ اَوْ لَتَعُوۡدُنَّ فِیۡ مِلَّتِنَا ؕ قَالَ اَوَلَوْ کُنَّا کٰرِہِیۡنَ ﴿۸۸﴾ۚ 
ترجمۂکنزالایمان: اس کی قوم کے متکبر سردار بولے اے شعیب قسم ہے کہ ہم تمہیں اور تمہارے ساتھ والے مسلمانوں کو اپنی بستی سے نکا ل دیں گے یا تم ہمارے دین میں ا ٓجا ؤ کہا کیا اگرچہ ہم بیزار ہوں۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: اس کی قوم کے متکبر سردار کہنے لگے: اے شعیب ! ہم ضرور تمہیں اور تمہارے ساتھ والے مسلمانوں کو اپنی بستی سے نکال دیں گے یا تم ہمارے دین میں ا ٓجاؤ۔ فرمایا: کیا اگرچہ ہم بیزار ہوں ؟
{ قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیۡنَ اسْتَکْبَرُوۡا مِنۡ قَوْمِہٖ:اس کی قوم کے مُتکبر سردار کہنے لگے۔} اس سے پہلی آیات میں حضرت شعیب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے اپنی قوم کو کیے گئے وعظ و نصیحت کا بیان ہوا، آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا وعظ و نصیحت سن کر آپ کی قوم  کے وہ سردار جنہوں نے اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے رسول عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر ایمان لانے اور پیروی کرنے سے تکبر کیا تھا ،ان کے جواب کا ذکر اس آیت میں فرمایا گیا ہے، چنانچہ فرمایا گیا کہ’’ حضرت شعیب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کے متکبر سردار اُن کی نصیحتیں سن کر کہنے لگے : اے شعیب ! ہم قسم کھاتے ہیں کہ ہم ضرور تمہیں اور تمہارے ساتھ ایمان والوں کو اپنی بستی سے نکال دیں گے، یعنی اصل مقصود تو آپ کونکالنا ہے اور آپ کی وجہ سے آپ کے مومن ساتھیوں کو بھی نکال دیں گے۔ (1) 
قوم کی ہلاکت کا باعث ا س کے رہنما:
	 حضرت شعیب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کے سردار وں کی بے ادبی ان کی ہلاکت کا سبب بنی، اس سے معلوم ہوا کہ قوم کے سردار قوم کی ہلاکت کا باعث بنتے ہیں اگر یہ درست ہو جائیں تو قوم کواعلیٰ درجے پر پہنچا دیتے ہیں اور بگڑ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…ابو سعود، الاعراف، تحت الآیۃ: ۸۸، ۲/۲۷۲۔