کے ساتھ رشتہ کرنے کو باعث عار اور بغیر داڑھی والے سے رشتہ کرنے کو قابلِ فخر تصور کرتے ہیں۔ نماز روزے کی پابندی اور سنتوں پر عمل کرنے والے انہیں اپنی نگاہوں میں عجیب نظر آتے اور گانے باجوں ، فلموں ڈراموں میں مشغول لوگ زندگی کی رعنائیوں سے لطف اندوز ہوتے نظر آتے ہیں۔ عورتوں کا پردہ کرنا فرسودہ عمل اور بے پردہ ہونا جدید دور کا تقاضا سمجھتے ہیں۔ صرف اپنی بیوی کے ساتھ تعلق قائم رکھنے کو تنگ ذہنی اور غیر عورتوں سے ناجائز تعلقات کو روشن خیالی کہتے ہیں۔ اپنی عورتوں کے غیر مردوں سے دور رہنے کو اپنی بے عزتی جبکہ ان کا غیر مردوں سے ملنے اور ان سے تعلقات قائم کرنے کو اپنی عزت تصور کرتے ہیں۔ حرام کمائی کو اپنا حق ا ور ضرورت جبکہ حلال کمائی کواپنی حق تلفی قرار دیتے ہیں۔ امانت و دیانت داری اور سچائی کو بھولا پن جبکہ خیانت، جھوٹ ،دھوکہ اور فریب کاری کو اپنی چالاکی اور مہارت سمجھتے ہیں۔ سرِ دست یہ چند مثالیں پیش کی ہیں ورنہ تھوڑ اسا غور کریں تو اچھے کام کو برا اور برے کام کو اچھا سمجھنے کی ہزاروں مثالیں سامنے آ جائیں گی ۔اے کاش ! مسلمان اپنے رب تعالیٰ کے اس فرمان پر غور کریں اور اپنی روش سے باز آ جائیں ،اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
’’ اَفَمَنۡ زُیِّنَ لَہٗ سُوۡٓءُ عَمَلِہٖ فَرَاٰہُ حَسَنًا ؕ فَاِنَّ اللہَ یُضِلُّ مَنۡ یَّشَآءُ وَ یَہۡدِیۡ مَنۡ یَّشَآءُ ۫ۖ فَلَا تَذْہَبْ نَفْسُکَ عَلَیۡہِمْ حَسَرٰتٍ ؕ اِنَّ اللہَ عَلِیۡمٌۢ بِمَا یَصْنَعُوۡنَ ﴿۸﴾‘‘ (1)
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو کیا وہ شخص جس کیلئے اس کا برا عمل خوبصورت بنادیا گیا تو وہ اسے اچھا (ہی) سمجھتا ہے (کیا وہ ہدایت یافتہ آدمی جیسا ہوسکتا ہے؟) تو بیشک اللہ گمراہ کرتا ہے جسے چاہتا ہے اور راہ دکھاتا ہے جسے چاہتا ہے، تو حسرتوں کی وجہ سے ان پر تمہاری جان نہ چلی جائے۔ بیشک اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں۔
کسی جگہ نیک بندوں کاموجود ہونا امن کاذریعہ ہے:
کفار کے نبی عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاماور ان کے صحابہ کو وہاں سے نکالنے کی بات سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کسی بستی میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے بندوں کا رہنا اس جگہ امن رہنے کا ذریعہ ہے اور ان کا وہاں سے نکل جانا عذاب کا ذریعہ۔ وہ لوگ خود انہیں نکال کر اپنے عذاب کا سامان کرنا چاہتے تھے۔
فَاَنۡجَیۡنٰہُ وَاَہۡلَہٗۤ اِلَّا امْرَاَتَہٗ ۫ۖ کَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیۡنَ ﴿۸۳﴾
ترجمۂکنزالایمان: تو ہم نے اسے اور اس کے گھر والوں کو نجات دی مگر اس کی عورت وہ رہ جانے والوں میں ہوئی ۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…فاطر:۸۔