Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
369 - 558
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو ہم نے اسے اور اس کے گھر والوں کو نجات دی سوائے اس کی بیوی کے ۔وہ باقی رہنے والوں میں سے تھی۔ 
{ فَاَنۡجَیۡنٰہُ وَاَہۡلَہٗۤ:تو ہم نے اسے اور اس کے گھر والوں کو نجات دی۔} جب حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم پر عذاب آیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ، آپ کے گھر والوں میں سے آپ کی دو بیٹیوں اور سارے مسلمانوں کو عذاب سے بچا لیا، البتہ حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی بیوی جس کا نام واہلہ تھا وہ آپ پر ایمان نہ لائی بلکہ کافرہ ہی رہی ،اپنی قوم سے محبت رکھتی اور ان کے لئے جاسوسی کرتی تھی ،یہ عذاب میں مبتلا ہوئی۔ 
وَاَمْطَرْنَا عَلَیۡہِمۡ مَّطَرًا ؕ فَانۡظُرْکَیۡفَ کَانَ عٰقِبَۃُ الْمُجْرِمِیۡنَ ﴿٪۸۴﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: اور ہم نے ان پر ایک مینھ برسایا تو دیکھو کیسا انجام ہوا مجرموں کا۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ہم نے ان پر بارش برسائی تو دیکھو ،مجرموں کاکیسا انجام ہوا؟
{ وَاَمْطَرْنَا عَلَیۡہِمۡ مَّطَرًا:اور ہم نے ان پر بارش برسائی۔} حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم پر اس طرح عذاب آیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر پتھروں کی خوفناک بارش برسائی کہ جو گندھک اور آگ سے مُرَکَّب تھے ۔ایک قول یہ ہے کہ بستی میں رہنے والے جو وہاں مقیم تھے وہ تو زمین میں دھنسادیئے گئے اور جو سفر میں تھے وہ ا س بارش سے ہلاک کئے گئے۔ امام مجاہد رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے کہا کہ حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام نازل ہوئے اور انہوں نے اپنا بازو قومِ لوط کی بستیوں کے نیچے ڈال کر اس خطہ کو اکھاڑ لیا اور آسمان کے قریب پہنچ کر اس کو اوندھا کرکے گرا دیا اور اس کے بعد پتھروں کی بارش کی گئی۔
آیت’’ وَاَمْطَرْنَا عَلَیۡہِمۡ مَّطَرًا ‘‘سے معلوم ہونے والے مسائل:
	اس آیت سے دو مسئلے معلوم ہوئے ،
(1)… یہ بدکاری تمام جرموں سے بڑا جرم ہے کہ ا س جرم کی وجہ سے قومِ لوط پر ایسا عذاب آیا جو دوسری عذاب پانے والی قوموں پر نہ آیا۔
(2)… مجرموں کے تاریخی حالات پڑھنا، ان میں غور کرنا بھی عبادت ہے تا کہ اپنے دل میں گناہوں سے نفرت پیدا ہو، اسی طرح محبوب قوموں کے حالات میں غور کرنا محبوب ہے تا کہ اطاعت کا جذبہ پیدا ہو۔