لُوط کی بستیاں نہایت سرسبز و شاداب تھیں اور وہاں غلّے اور پھل بکثرت پیدا ہوتے تھے، زمین کا دوسرا خطہ اس کی مثل نہ تھا۔ اس لئے جا بجا سے لوگ یہاں آتے تھے اور انہیں پریشان کرتے تھے، ایسے وقت میں ابلیس لعین ایک بوڑھے کی صورت میں نمودار ہوا اور ان سے کہنے لگا کہ اگر تم مہمانوں کی اس کثرت سے نجات چاہتے ہو تو جب وہ لوگ آئیں تو ان کے ساتھ بدفعلی کرو اس طرح یہ فعلِ بدانہوں نے شیطان سے سیکھا اور ان میں رائج ہوا۔
وَمَاکَانَ جَوَابَ قَوْمِہٖۤ اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوۡۤا اَخْرِجُوۡہُمۡ مِّنۡ قَرْیَتِکُمْ ۚ اِنَّہُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَہَّرُوۡنَ ﴿۸۲﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور اس کی قوم کا کچھ جواب نہ تھا مگر یہی کہنا کہ ان کو اپنی بستی سے نکال دو یہ لوگ تو پاکیزگی چاہتے ہیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ان کی قوم کا اس کے سوا کوئی جواب نہ تھا کہ انہوں نے کہا: ان کو اپنی بستی سے نکال دو۔ یہ لوگ بڑے پاک بنتے پھرتے ہیں۔
{ وَمَاکَانَ جَوَابَ قَوْمِہٖۤ:اور اس کی قوم کا کچھ جواب نہ تھا۔} حضرت لوطعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے سمجھانے پر ان کی قوم کے لوگ ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کی پیروی کرنے والوں کو اپنی بستی سے نکال دو یہ لوگ تو بڑی پاکیزگی چاہتے ہیں۔ یعنی گویا پاکیزگی ان کیلئے باعث ِ اِستہزاء چیز بن گئی اور اس قوم کا ذوق اتنا خراب ہوگیا تھا کہ انہوں نے اس صفت ِمدح کو عیب قرار دیا۔
اچھے عمل کو برا اور برے عمل کو اچھا سمجھنے کی اوندھی سوچ:
اس سے معلوم ہوا کہ جب کسی کے دن برے آتے ہیں تو اسے اوندھی سوجھتی ہے کہ اسے اچھی چیزیں بری لگنا اور بری چیزیں اچھی نظر آنا شروع ہو جاتی ہیں۔ آج کل کے حالات دیکھے جائیں تو ہمارے معاشرے میں بھی لوگوں کی ایک تعداد ایسی ہے جن میں یہ وبا عام نظر آتی ہے اور یہ لوگ جب کسی کو دین کے احکام پر عمل کرتا دیکھتے ہیں تو ان کی طبیعت خراب ہو جاتی ہے اور ا س خرابی کے باعث داڑھی رکھنے کو برا اور نہ رکھنے کو اچھا سمجھتے ہیں۔ داڑھی والے کو حقارت کی نظر سے اور داڑھی منڈے کو پسند کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ داڑھی والے