Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
350 - 558
اور یہ وہی حکم ہے جو اللہ عَزَّوَجَلَّنے ہمیں ارشاد فرمایا ہے:
 ’’ اُدْعُ اِلٰی سَبِیۡلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَ الْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَجٰدِلْہُمۡ بِالَّتِیۡ ہِیَ اَحْسَنُ ؕ اِنَّ رَبَّکَ ہُوَ اَعْلَمُ بِمَنۡ ضَلَّ عَنۡ سَبِیۡلِہٖ وَ ہُوَ اَعْلَمُ بِالْمُہۡتَدِیۡنَ ﴿۱۲۵﴾‘‘ (1)

ترجمۂکنزُالعِرفان:اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلاؤ اور ان سے اس طریقے سے بحث کرو جو سب سے اچھا ہو ،بیشک تمہارا رب اسے خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے گمراہ ہوا اور وہ ہدایت پانے والوں کو بھی خوب جانتا ہے۔
	اس سے مبلغین کو بھی درس حاصل کرنا چاہیے کہ مخاطب کی جہالت پر برانگیختہ ہونے کی بجائے حتی الامکان نرمی اور شفقت کے ساتھ جواب دیا جائے ۔ 
فَکَذَّبُوۡہُ فَاَنۡجَیۡنٰہُ وَالَّذِیۡنَ مَعَہٗ فِی الْفُلْکِ وَ اَغْرَقْنَا الَّذِیۡنَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا ؕ اِنَّہُمْ کَانُوۡا قَوْمًا عَمِیۡنَ ﴿٪۶۴﴾ 

ترجمۂکنزالایمان: تو انہوں نے اسے جھٹلایا تو ہم نے اسے اور جو اس کے ساتھ کشتی میں تھے نجات دی اور اپنی آیتیں جھٹلانے والوں کو ڈبو دیا بیشک وہ اندھا گروہ تھا۔

ترجمۂکنزُالعِرفان:تو انہوں نے نوح کو جھٹلایا تو ہم نے اسے اور جو اس کے ساتھ کشتی میں تھے سب کو نجات دی اور ہماری آیتیں جھٹلانے والوں کو غرق کر دیا بیشک وہ اندھے لوگ تھے۔ 
{ فَکَذَّبُوۡہُ:تو انہوں نے نوح کو جھٹلایا۔}جب حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم نے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی نبوت کو جھٹلایا، حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامپر نازل ہونے والی وحی جو آپ ان تک پہنچادیتے تھے اسے قبول نہ کیا اورایک عرصے تک عذابِ الٰہی سے خوف دلانے اور راہِ راست پر لانے کی کوششیں کرنے کے باوجود بھی وہ لوگ اپنی بات پر ڈٹے رہے تو ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا۔ جو مومنین حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے سا تھ کشتی میں سوار تھے
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…النحل:۱۲۵.