Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
349 - 558
 اپنے رب کے پیغامات پہنچاتا ہوں اور تمہاری خیرخواہی کرتا ہوں اور میں اللہ کی طرف سے وہ علم رکھتا ہوں جو تم نہیں رکھتے۔ اور کیا تمہیں اس بات پر تعجب ہے کہ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے تمہیں میں سے ایک مرد کے ذریعے نصیحت آئی تاکہ وہ تمہیں ڈرائے اور تاکہ تم ڈرواور تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔
{ قَالَ یٰقَوْمِ:کہا اے میری قوم ۔} قوم کے سرداروں کا جہالت و سَفاہَت سے بھرپور جواب سن کر کمالِ خُلق کا مظاہرہ کرتے ہوئے حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے جواب دیا کہ’’ اے میری قوم! مجھ میں کوئی گمراہی کی بات نہیں بلکہ میں تو اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے تمہاری ہدایت کے لیے رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں کیونکہ جب دنیاوی بادشاہ کسی ناتجربہ کار اور جاہل کو اپنا وزیر نہیں بناتا یا کوئی اہم عہدہ نہیں سونپتاتواللہ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی جو سب بادشاہوں کا بادشاہ ہے وہ کیسے کسی بے وقوف یا کم علم کو منصبِ نبوت سے سرفراز فرما سکتا ہے اور میرا کام تو اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے پیغامات تم تک پہنچانا اور تمہاری بھلائی چاہنا ہے۔
نبوت اور گمراہی جمع نہیں ہو سکتی:
	 آیت نمبر61 سے معلوم ہوا کہ نبوت اور گمراہی دونوں جمع نہیں ہو سکتیں اور کوئی نبی ایک آن کے لئے بھی گمراہ نہیں ہو سکتے ۔ اگر نبی ہی گمراہ ہوں تو پھر انہیں ہدایت کون کرے گا۔
مبلغ کو چاہیے کہ مخاطب کی جہالت پر شفقت و نرمی کا مظاہرہ کرے:
	حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کی بکواس اور آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے جواب کی طرف نظر کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نہایت حلیم و کریم بزرگ تھے کہ انتہائی بدتمیزی کے ساتھ دئیے گئے جواب کے مقابلے میں نہایت شفقت و محبت اور خیرخواہی کے ساتھ جواب عطا فرما رہے ہیں اور یہ وہی تعلیم ہے جو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو فرمائی تھی۔ چنانچہ فرعون کی طرف بھیجتے ہوئے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے فرمایا :
’’ فَقُوۡلَا لَہٗ قَوْلًا لَّیِّنًا لَّعَلَّہٗ یَتَذَکَّرُ اَوْ یَخْشٰی﴿۴۴﴾ ‘‘(1) 

ترجمۂکنزُالعِرفان: توتم اس سے نرم بات کہنا اس امید پر کہ شاید وہ نصیحت قبول کرلے یا (اللہ سے)ڈرجائے۔ 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…طہ:۴۴.