انہیں اللہ تعالیٰ نے عذاب سے محفوظ رکھا اور باقی سب کو غرق کر دیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے دشمنوں پر اس وقت تک دنیاوی عذاب نہیں آتے جب تک وہ پیغمبر کی نافرمانی نہ کریں ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
’’ وَمَاکُنَّا مُعَذِّبِیۡنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُوۡلًا ﴿۱۵﴾ ‘‘ (1)
ترجمۂکنزُالعِرفان:اور ہم کسی کو عذاب دینے والے نہیں ہیں جب تک کوئی رسول نہ بھیج دیں۔
حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی کشتی میں چالیس مرد اور چالیس عورتیں سوار تھیں مگر آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اولاد کے سوا کسی کی نسل نہ چلی اس لئے آپ کو ’’آدمِ ثانی‘‘ کہتے ہیں۔ آیت میں اللہ تعالیٰ نے مزید فرمایا ’’بیشک وہ (یعنی کفار) اندھے لوگ تھے۔ ‘‘یعنی ان کے پاس نبوت کی شان دیکھنے والی آنکھ نہ تھی، ان کے دل اندھے تھے اگرچہ آنکھیں کھلی تھیں جیساکہ حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانے فرمایا کہ اُن کے دِل اندھے تھے، معرفت کا نور ان کی قسمت میں نہ تھا ۔ (2)
وَ اِلٰی عَادٍ اَخَاہُمْ ہُوۡدًا ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللہَ مَا لَکُمۡ مِّنْ اِلٰہٍ غَیۡرُہٗ ؕ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴿۶۵﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور عاد کی طرف ان کی برادری سے ہود کو بھیجا کہا اے میری قوم اللہ کی بندگی کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں تو کیا تمہیں ڈر نہیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور قومِ عاد کی طرف ان کے ہم قوم ہود کو بھیجا ۔ ( ہود نے) فرمایا: اے میری قوم ! اللہکی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ تو کیا تم ڈرتے نہیں ؟
{وَ اِلٰی عَادٍ:اور قومِ عاد کی طرف۔}قوم عاد دو ہیں : عادِ اُوْلیٰ یہ حضرت ہودعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم ہے اور یہ یمن میں آباد تھے اور عادِثانیہ،یہ حضرت صالح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم ہے، اسی کو ثمود کہتے ہیں ان دونوں کے درمیان سو برس
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…بنی اسرائیل:۱۵.
2…خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: ۶۴، ۲/۱۰۸.