ترجمۂکنزالایمان: تم فرمادو کہ ستھرا اور گندہ برابر نہیں اگرچہ تجھے گندے کی کثرت بھائے تو اللہ سے ڈرتے رہو اے عقل والوکہ تم فلاح پاؤ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تم فرمادو کہ گندا اور پاکیزہ برابر نہیں ہیں اگرچہ گندے لوگوں کی کثرت تمہیں تعجب میں ڈالے تو اے عقل والو! تم اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم فلاح پاؤ۔
{ قُلۡ لَّا یَسْتَوِی الْخَبِیۡثُ وَالطَّیِّبُ: تم فرمادو کہ گندا اور پاکیزہ برابر نہیں ہیں۔}اس آیت میں فرمایا گیا کہ حلال و حرام، نیک و بد ،مسلم و کافر اور کھرا کھوٹا ایک درجہ میں نہیں ہوسکتے بلکہ حرام کی جگہ حلال، بد کی جگہ نیک، کافر کی جگہ مسلمان اور کھوٹے کی جگہ کھرا ہی مقبول ہے۔
{ وَلَوْ اَعْجَبَکَ کَثْرَۃُ الْخَبِیۡثِ:اگرچہ گندے کی کثرت تمہیں تعجب میں ڈالے۔}اس کا معنی یہ ہے کہ دنیا داروں کو مال و دولت کی کثرت اور دنیا کی زیب و زینت بھاتی ہے حالانکہ جو نعمتیں اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں وہ سب سے اچھی اور سب سے زیادہ باقی رہنے والی ہیں کیونکہ دنیا کی زینت و آرائش اور اس کی نعمتیں ختم ہو جائیں گی جبکہ وہ نعمتیں ہمیشہ باقی رہیں گی جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں۔ (1)
دنیا کی مذمت:
اس سے معلوم ہو اکہ دنیا کے مال و دولت کی چاہت،ا س کی نعمتوں اور آسائشوں کی خواہشات اور اس کی رنگینیوں سے لطف اندوز ہونے کی تمنا میں لگے رہنا اور اپنی آخرت کی تیاری سے غافل رہنا انتہائی مذموم ہے۔اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
’’ زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّہَوٰتِ مِنَ النِّسَآءِ وَالْبَنِیۡنَ وَالْقَنٰطِیۡرِ الْمُقَنۡطَرَۃِ مِنَ الذَّہَبِ وَالْفِضَّۃِ وَالْخَیۡلِ الْمُسَوَّمَۃِ وَالۡاَنْعٰمِ وَالْحَرْثِؕ ذٰلِکَ مَتٰعُ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَاۚ وَاللہُ عِنۡدَہٗ حُسْنُ الْمَاٰبِ﴿۱۴﴾‘‘ (2)
ترجمۂکنزُالعِرفان:لوگوں کے لئے ان کی خواہشات کی محبت کو آراستہ کردیا گیا یعنی عورتوں اور بیٹوں اور سونے چاندی کے جمع کئے ہوئے ڈھیروں اور نشان لگائے گئے گھوڑوں اورمویشیوں اور کھیتیوں کو( ان کے لئے آراستہ کردیا گیا۔) یہ سب دنیوی زندگی کا سازوسامان ہے اور صرف اللہ کے پاس اچھا ٹھکاناہے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۱۰۰، ۱/۵۳۰۔
2…اٰل عمران:۱۴۔