Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
34 - 558
{ اِعْلَمُوۡۤا اَنَّ اللہَ شَدِیۡدُ الْعِقَابِ: جان رکھو کہ اللہ  سخت عذاب دینے والا بھی ہے۔} ارشاد فرمایا گیا کہ جان رکھو کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ  سخت عذاب دینے والا بھی ہے اور اللہ تعالیٰ بخشنے والا، مہربان بھی ہے،تو حرم اور احرام کی حرمت کا لحاظ رکھو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمتوں کا ذکر فرمانے کے بعد اپنی صفت ’’شَدِیۡدُ الْعِقَابِ‘‘ ذکر فرمائی تاکہ خوف و امید سے ایمان کی تکمیل ہو ،اس کے بعد صفت’’ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ‘‘ بیان فرما کر اپنی وسعت ِرحمت کا اظہار فرمایا۔
مَا عَلَی الرَّسُوۡلِ اِلَّا الْبَلٰغُ ؕ وَ اللہُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُوۡنَ وَمَا تَکْتُمُوۡنَ ﴿۹۹﴾
ترجمۂکنزالایمان: رسول پر نہیں مگر حکم پہونچانا اور اللہ جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے اور جو تم چھپاتے ہو۔ترجمۂکنزُالعِرفان: رسول پر صرف تبلیغ لازم ہے اور اللہ جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے اور جو تم چھپاتے ہو۔
{ مَا عَلَی الرَّسُوۡلِ اِلَّا الْبَلٰغُ:رسول پر صرف تبلیغ لازم ہے۔}ارشاد فرمایا کہ میرے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ پر صرف تبلیغ لازم ہے تو جب میرے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ حکم پہنچا کر فارغ ہوگئے تو تم پر اطاعت لازم ہوگئی اور حجت قائم ہوگئی اور تمہارے لئے عذر کی گنجائش باقی نہ رہی۔ اس میں تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی بے نیازی بھی مذکور ہے کہ وہ تمہارے حاجت مند نہیں بلکہ تم ان کے محتاج ہو۔ اگر کوئی بھی ان کی اطاعت نہ کرے تو ان کا کچھ نہ بگڑے گا کیونکہ وہ تبلیغ فرما چکے ،جیسے سورج سے اگر کوئی نو ر نہ لے تو سورج کو کوئی نقصان نہیں بلکہ نقصان اسی کا ہے جو سورج سے نور نہیں لے رہا۔
{ وَ اللہُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُوۡنَ وَمَا تَکْتُمُوۡنَ:اور اللہ جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے اور جو تم چھپاتے ہو۔}یعنی تمہارے ظاہری اور باطنی احوال میں سے کوئی چیز اللہ تعالیٰ سے مخفی نہیں ہے لہٰذا جیسے تمہارے اعمال ہوں گے اللہ تعالیٰ ویسی تمہیں جزا دے گا۔
قُلۡ لَّا یَسْتَوِی الْخَبِیۡثُ وَالطَّیِّبُ وَلَوْ اَعْجَبَکَ کَثْرَۃُ الْخَبِیۡثِ ۚ فَاتَّقُوا اللہَ یٰۤاُولِی الۡاَ لْبٰبِ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوۡنَ ﴿۱۰۰﴾٪