اور ارشاد فرماتا ہے:
’’وَمَنۡ یُّرِدْ ثَوَابَ الدُّنْیَا نُؤْتِہٖ مِنْہَاۚ وَمَنۡ یُّرِدْ ثَوَابَ الۡاٰخِرَۃِ نُؤْتِہٖ مِنْہَاؕ وَسَنَجْزِی الشّٰکِرِیۡنَ﴿۱۴۵﴾‘‘ (1)
ترجمۂکنزُالعِرفان:اور جو شخص دنیا کا انعام چاہتا ہے ہم اسے دنیا کا کچھ انعام دیدیں گے اور جو آخرت کا انعام چاہتا ہے ہم اسے آخرت کا انعام عطافرمائیں گے اورعنقریب ہم شکر ادا کرنے والوں کو صلہ عطا کریں گے۔
حضرت زید بن ثابت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’ جو شخص ہمیشہ دنیا کی فکر میں مبتلارہے گا (اور دین کی پرواہ نہ کرے گا )تو اللہ تعالیٰ ا س کے تمام کام پریشان کر دے گا اور ا س کی مفلسی ہمیشہ اس کے سامنے رہے گی اور اسے دنیا اتنی ہی ملے گی جتنی اس کی تقدیر میں لکھی ہوئی ہے اور جس کی نیت آخرت کی جانب ہو گی تو اللہ تعالیٰ اس کی دل جمعی کے لئے ا س کے تمام کام درست فرما دے گا اور ا س کے دل میں دنیا کی بے پروائی ڈال دے گا اور دنیا اس کے پاس خودبخود آئے گی۔ (2)
اُمّ المؤمنین حضرت عائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْھا سے روایت ہے، حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’دنیا اس کا گھر ہے جس کا (آخرت میں ) کوئی گھر نہیں اور اس کا مال ہے جس کا دوسرا کوئی مال نہیں اور دنیا کے لئے وہ آدمی جمع کرتا ہے جس کے پاس عقل نہیں۔ (3)
حضرت ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’ جس نے اپنی دنیا سے محبت کی اس نے اپنی آخرت کو نقصان پہنچایا اور جس نے اپنی آخرت سے محبت کی ا س نے اپنی دنیا کو نقصان پہنچایا، پس تم فنا ہونے والی (دنیا) پر باقی رہنے والی (آخرت ) کو ترجیح دو۔ (4)
اللہتعالیٰ تمام مسلمانوں کو اپنی دنیوی بہتری کے ساتھ ساتھ اپنی اخروی تیاری کی طرف بھی توجہ کرنے اور اس کے لئے بھر پور کوشش کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمین۔
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَسْـَٔلُوۡا عَنْ اَشْیَآءَ اِنۡ تُبْدَ لَکُمْ تَسُؤْکُمْ ۚ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…اٰل عمران:۱۴۵۔
2…ابن ماجہ، کتاب الزہد، باب الہم بالدنیا، ۴/۴۲۴، الحدیث: ۴۱۰۵۔
3…شعب الایمان، الحادی والسبعون من شعب الایمان ۔۔۔ الخ، فصل فیما بلغنا عن الصحابۃ۔۔۔ الخ، ۷/۳۷۵، الحدیث: ۱۰۶۳۸۔
4…مسند امام احمد، مسند الکوفیین، حدیث ابی موسی الاشعری، ۷/۱۶۵، الحدیث: ۱۹۷۱۷۔