Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
348 - 558
نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکی نبوت کی زبردست دلیل:
	 انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے ان تذکروں میں سید ِ عالمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی نبوت کی زبردست دلیل ہے کیونکہ حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ اُمّی تھے، پھر آپ کا ان واقعات کو تفصیلاًبیان فرمانا بالخصوص ایسے ملک میں جہاں اہلِ کتاب کے علماء بکثرت موجود تھے اور سرگرم مخالف بھی تھے ،ذراسی بات پاتے تو بہت شور مچاتے، وہاں حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکا ان واقعات کو بیان فرمانا اور اہلِ کتاب کا ساکت و حیران رہ جانا اس بات کی صریح دلیل ہے کہ آپ نبی ٔ برحق ہیں اور پروردِگار عالم عَزَّوَجَلَّ نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ پر علوم کے دروازے کھول دیئے ہیں۔
	نوٹ: حضرت نوحعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا اپنی قوم کو راہِ راست پر آنے کی دعوت دینے اور ان کی قوم پر آنے والے عذاب کا تفصیلی ذکر سورۂ ہود آیت25تا 48 میں بھی مذکور ہے۔
قَالَ یٰقَوْمِ لَیۡسَ بِیۡ ضَلٰلَۃٌ وَّلٰکِنِّیۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الْعٰلَمِیۡنَ ﴿۶۱﴾ اُبَلِّغُکُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیۡ وَ اَنۡصَحُ لَکُمْ وَاَعْلَمُ مِنَ اللہِ مَا لَاتَعْلَمُوۡنَ ﴿۶۲﴾ اَوَعَجِبْتُمْ اَنۡ جَآءَکُمْ ذِکْرٌ مِّنۡ رَّبِّکُمْ عَلٰی رَجُلٍ مِّنۡکُمْ لِیُنۡذِرَکُمْ وَ لِتَتَّقُوۡا وَلَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوۡنَ ﴿۶۳﴾ 
ترجمۂکنزالایمان:کہا اے میری قوم مجھ میں گمراہی کچھ نہیں میں تو ربُّ العالمین کا رسول ہوں۔ تمہیں اپنے رب کی رسالتیں پہنچاتا اور تمہارا بھلا چاہتا اور میں اللہ کی طرف سے وہ علم رکھتا ہوں جو تم نہیں رکھتے۔ اور کیا تمہیں اس کا اچنبھا ہوا کہ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک نصیحت آئی تم میں کے ایک مرد کی معرفت کہ وہ تمہیں ڈرائے اور تم ڈرو اور کہیں تم پر رحم ہو۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: فرمایا: اے میری قوم !مجھ میں کوئی گمراہی نہیں لیکن میں تو ربُّ العالمین کا رسول ہوں۔میں تمہیں