ایک دعا سے حاصل ہونے والے فوائد:
ایک دعا سے آدمی کو پانچ فائدے حاصل ہوتے ہیں :
(1)…دعا مانگنے والا عبادت گزاروں کے گروہ میں شمار ہوتا ہے کہ دعا فِی نَفْسِہٖ یعنی بذاتِ خود عبادت بلکہ عبادت کا مغز ہے۔
(2)…جو شخص دعا کرتا ہے وہ اپنے عاجز اور محتاج ہونے کا اقرار اور اپنے پروردگار عَزَّوَجَلَّ کی قدرت اور کرم کا اعتراف کرتا ہے۔
(3)…دعا مانگنے سے شریعتِ مطہرہ کے حکم کی بجا آوری ہو گی کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا حکم دیا اور دعا نہ مانگنے والے پر حدیث میں وعید آئی۔
(4)…سنت کی پیروی ہو گی کہ حضورِ اقدسصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ دعا مانگا کرتے اور اوروں کو بھی تاکید فرماتے۔
(5)…دعا سے آفات و بَلِّیّات دور ہوتی ہیں اور مقصود حاصل ہوتا ہے۔ (1)
نوٹ: دعا کے فضائل، آداب،قبولیت کے اسباب، قبولیت کے اوقات، قبولیت کے مقامات، قبولیت کی راہ میں حائل رکاوٹوں اور ممنوع دعاؤں وغیرہ کی معلومات حاصل کرنے کے لئے اعلی حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے والد ماجد حضرت علامہ مولانا نقی علی خان رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی تصنیف ’’اَحْسَنُ الْوِعَاء لِآدَابِ الدُّعَا‘‘(دعا کے فضائل و آداب اور اس سے متعلقہ احکام پر بے مثال تحقیق) (2) یا راقم کی کتاب ’’فیضانِ دعا‘‘ کا مطالعہ کیجئے۔
{اِنَّہ لَایُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ:بیشک وہ حد سے بڑھنے والے کوپسند نہیں فرماتا۔} یعنی لوگوں کو دعا وغیرہ جن چیزوں کا حکم دیا گیا ان میں حد سے بڑھنے والوں کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا۔ (3)
حضرت ابو نَعَامہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن مُغَفَّل نے اپنے بیٹے کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا: اے اللہ! عَزَّوَجَلَّ، میں تجھ سے جنت کی دائیں طرف سفید محل کا سوال کرتا ہوں۔ تو فرمایا ’’اے بیٹے !اللہ تعالیٰ سے جنت کا سوال کرو اور جہنم سے پناہ مانگو کیونکہ میں نے رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ’’ عنقریب
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…فضائل دعا، فصل اول، ص۵۴-۵۵، ملخصاً.
2…یہ کتاب تسہیل اور تخریج کے ساتھ مکتبۃ المدینہ نے ’’فضائل دعا‘‘ کے نام سے شائع کی ہے ،وہاں سے خرید کر اس کا مطالعہ فرمائیں۔
3…روح البیان، الاعراف، تحت الآیۃ: ۵۵، ۳/۱۷۸.