Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
343 - 558
 میری امت کے کچھ لوگ وضواور دعا میں حد سے بڑھیں گے ۔(1)
دعا میں حد سے بڑھنے کی صورتیں :
	یاد رہے کہ دعا میں حد سے بڑھنے کی مختلف صورتیں ہیں جیسے انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا مرتبہ مانگنا یا آسمان پر چڑھنے کی دعا کرنا، اسی طرح جو چیزیں محال یا قریب بہ محال ہیں ان کی دعا کرنا، ہمیشہ کے لئے تندرستی اور عافیت مانگنا، ایسے کام کے بدلنے کی دعا مانگنا جس پر قلم جاری ہو چکا مثلاً لمبا آدمی کہے میرا قد کم ہو جائے یا چھوٹی آنکھوں وا لاکہے کہ میری آنکھیں بڑی ہو جائیں۔ اسی طرح گناہ کی دعا مانگنا، رشتہ داروں سے تعلقات ٹوٹ جانے کی دعا کرنا، اللہ تعالیٰ سے حقیر چیز مانگنا، لَغْو اور بے فائدہ دعا مانگنا، رنج و مصیبت سے گھبرا کر اپنے مرنے کی دعا کرنا، صحیح شرعی غرض کے بغیر کسی کی موت یا بربادی کی دعا مانگنا، کسی مسلمان پر اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہونے یا اسے جہنم میں داخل کئے جانے کی دعا مانگنا، سب مسلمانوں کے سب گناہ بخشے جانے کی دعا مانگنا اورکافر کی مغفرت کی دعا کرنا وغیرہ۔
وَ لَا تُفْسِدُوۡا فِی الۡاَرْضِ بَعْدَ اِصْلٰحِہَا وَادْعُوۡہُ خَوْفًا وَّطَمَعًا ؕ اِنَّ رَحْمَتَ اللہِ قَرِیۡبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیۡنَ ﴿۵۶﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ اس کے سنورنے کے بعد اور اس سے دعا کرو ڈرتے اور طمع کرتے  بیشک اللہ کی رحمت نیکوں سے قریب ہے۔

ترجمۂکنزُالعِرفان:اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد برپا نہ کرو اوراللہ سے دعا کرو ڈرتے ہوئے اور طمع کرتے ہوئے۔ بیشک اللہ کی رحمت نیک لوگوں کے قریب ہے۔ 
{ وَ لَا تُفْسِدُوۡا فِی الۡاَرْضِ:اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ۔} یعنی اے لوگو! انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے تشریف لانے، حق کی دعوت فرمانے، احکام بیان کرنے اور عدل قائم فرمانے کے بعد  تم کفر و شرک ، گناہ اور ظلم و ستم  کرکے زمین میں فساد برپا نہ کرو۔ 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…ابو داؤد، کتاب الطہارۃ، باب الاسراف فی المائ، ۱/۶۸، الحدیث: ۹۶.