Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
341 - 558
ترجمۂکنزالایمان: اپنے رب سے دعا کرو گڑگڑاتے اور آہستہ بیشک حد سے بڑھنے والے اسے پسند نہیں۔ 

ترجمۂکنزُالعِرفان: اپنے رب سے گڑگڑاتے ہوئے اور آہستہ آواز سے دعا کرو ۔ بیشک وہ حد سے بڑھنے والے کو پسند نہیں فرماتا۔
{ اُدْعُوۡا رَبَّکُمْ:اپنے رب سے دعا کرو۔} دُعا اللہ تعالیٰ سے خیر طلب کرنے کو کہتے ہیں اور یہ عبادت میں داخل ہے کیونکہ دُعا کرنے والا اپنے آپ کو عاجزو محتاج اور اپنے پروردگار کو حقیقی قادر و حاجت روااعتقاد کرتا ہے اسی لئے حدیث شریف میں وارد ہوا ’’ اَلدُّعَآئُ مُخُّ الْعِبَادَۃِ ‘‘ دعا عبادت کا مغز ہے۔ (1)
دعامانگنے کے فضائل:
	اس آیت میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگنے کا حکم دیاگیا، اس مناسبت سے ہم یہاں دعا مانگنے کے 3 فضائل بیان کرتے ہیں ،چنانچہ
(1)…حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا:’’ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کوئی چیز دعا سے بزرگ تر نہیں۔ (2)
(2)…حضرت عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے، حضور ِاقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’جس شخص کے لئے دعا کا دروازہ کھول دیا گیا تو ا س کے لئے رحمت کا دروازہ کھول دیاگیا۔ اللہ تعالیٰ سے کئے جانے والے سوالوں میں سے پسندیدہ سوال عافیت کا ہے۔ جو مصیبتیں نازل ہو چکیں اور جو نازل نہیں ہوئیں ان سب میں دعا سے نفع ہوتا ہے، تو اے اللہ عَزَّوَجَلَّکے بندو! دعا کرنے کو(اپنے اوپر) لازم کر لو۔ (3)
(3)…حضرت جابر بن عبداللہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’کیا میں تمہیں وہ چیز نہ بتاؤں جو تمہیں تمہارے دشمن سے نجات دے اور تمہارے رزق کووسیع کر دے ’’رات دن اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے رہو کہ دعا مومن کا ہتھیار ہے۔ (4)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…ترمذی، کتاب الدعوات، باب ما جاء فی فضل الدعائ، ۵/۲۴۳، الحدیث: ۳۳۸۲.
2…ترمذی، کتاب الدعوات، باب ما جاء فی فضل الدعائ، ۵/۲۴۳، الحدیث: ۳۳۸۱.
3…ترمذی، کتاب الدعوات، باب  فی دعاء النبی صلی اللہ علیہ وسلم، ۵/۳۲۱، الحدیث: ۳۵۵۹.
4…مسند ابو یعلی، مسند جابر بن عبد اللہ، ۲/۲۰۱، الحدیث: ۱۸۰۶.