کی تاویل کئی طرح سے فرماتے ہیں ان میں چار وجہیں نفیس وواضح ہیں :
اول : استواء بمعنی’’ قہر وغلبہ ‘‘ہے، یہ معنی زبانِ عرب سے ثابت وپیدا (ظاہر) ہے، عرش سب مخلو قات سے اوپر اور اونچا ہے اس لئے اس کے ذکر پر اکتفا ء فرمایا اور مطلب یہ ہوا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ تمام مخلوقات پرقاہر وغالب ہے۔
دوم : استواء بمعنی ’’عُلُوّ ‘‘ہے،ا ور علو اللہ عَزَّوَجَلَّکی صفت ہے ،علوِ مکان صفت نہیں بلکہ علوِ مالکیت و سلطان صفت ہے۔
سوم: استواء بمعنی ’’قصد وارادہ‘‘ ہے، یعنی پھر عرش کی طر ف متوجہ ہوا یعنی اس کی ا ٓفر نیش کا ارادہ فرمایا یعنی اس کی تخلیق شروع کی۔
چہا رم: استواء بمعنی ’’فراغ وتمامی کار ‘‘ ہے، یعنی سلسلہ خلق وآفر نیش کو عرش پر ختم فرمایا، اس سے باہر کوئی چیز نہ پائی، دنیا وآخرت میں جو کچھ بنا یا اور بنائے گا دائرۂ عرش سے باہر نہیں کہ وہ تمام مخلو ق کو حاوی ہے۔‘‘ (1)
مزید تفصیل کے لئے فتاویٰ رضویہ کی29ویں جلد میں موجود سیدی اعلیٰ حضرت امام اہلسنّت شاہ امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا رسالۂ مبارکہ ’’ قَوَارِعُ الْقَھَّار عَلَی الْمُجَسَّمَۃِ الْفُجَّار‘‘ (اللہ تعالیٰ کے لئے جسم ثابت کرنے والے فاجروں کارد) کا مطالعہ فرمائیں۔
{ یُغْشِی الَّیۡلَ النَّہَارَ:رات دن کو ایک دوسرے سے ڈھانپ دیتا ہے۔} ارشاد فرمایا کہ رات اور دن ایک دوسرے کو ڈھانپ لیتے ہیں ، یہاں ڈھانپنے سے مراد زائل کرنا ہے یعنی رات کا اندھیرا دن کی روشنی کو اور پھر آئندہ دن کی روشنی رات کے اندھیرے کو دور کر دیتی ہے نیز اِن رات دن میں سے ہر ایک دوسرے کے پیچھے جلد جلد چلا آرہا ہے کہ دن رات کا ایسا سلسلہ قائم فرمایا جوکبھی ٹوٹتا نہیں اور اس نے سورج ،چاند ، ستاروں کو بنایا اور ایسا بنایا کہ نہ کبھی خراب ہوں اور نہ کبھی ان کو تبدیل کیا جاسکے مگر جب اللہ عَزَّوَجَلَّ چاہے۔ یہ سب اللہ عَزَّوَجَلَّکے حکم کے پابند ہیں۔ کائنات میں تخلیق اور تَصَرُّف کا حقیقی اختیار صرف اللہ عَزَّوَجَلَّ کو ہے اور اسی کی ذات خیر و برکت والی ہے کہ اسی کا فیضان جاری و ساری ہے اور سب برکتیں ، عنایتیں اور رحمتیں اسی کی طرف سے ہیں۔
اُدْعُوۡا رَبَّکُمْ تَضَرُّعًا وَّخُفْیَۃً ؕ اِنَّہٗ لَایُحِبُّ الْمُعْتَدِیۡنَ ﴿ۚ۵۵﴾
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…فتاوی رضویہ، ۲۹/۱۲۴-۱۲۶ ملخصاً.