ہے۔ چھ دن میں تخلیق سے کیا مراد ہے ، اس کے متعلق بعض نے فرمایا کہ چھ دن سے مراد چھ ادوار ہیں اور اکثر نے فرمایا کہ دنیوی اعتبار سے جو چھ دن کی مقدار بنتی ہے وہ مراد ہے ۔ بہرحال جو بھی صورت ہو اللہ تعالیٰ ہر صورت پر قادر ہے۔
آسمان و زمین کو 6دن میں پیدا کرنے کی حکمت:
اللہ تعالیٰ قادر تھا کہ ایک لمحہ میں یا اس سے کم میں زمین و آسمان پیدا فرما دیتا لیکن اتنے عرصے میں اُن کی پیدائش فرمانا بہ تقاضائے حکمت ہے اوراس میں بندوں کے لئے تعلیم ہے کہ بندے بھی اپنے کام میں جلدی نہ کیا کریں بلکہ آہستگی سے کریں۔
جلد بازی سے متعلق 2احادیث:
یہاں جلد بازی سے متعلق دو احادیث ملاحظہ ہوں :
(1)… حضرت سہل بن ساعدی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے، حضور پر نورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’ کام میں جلد بازی نہ کرنا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور جلد بازی شیطان کی طرف سے ہے۔ (1)
(2)…حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں ،رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے شیخ عبدُ القیس سے فرمایا ’’ تم میں دو خصلتیں ایسی ہیں جو اللہ تعالیٰ کو محبوب ہیں ،بردباری اور جلد بازی نہ کرنا (2)۔ (3)
{ ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ: پھر عرش پر جیسا اس کی شان کے لائق ہے اِستِواء فرمایا۔} استواء کا لغوی معنیٰ تو ہے کہ کسی چیز کا کسی چیز سے بلند ہونا، کسی چیز کا کسی چیز پر بیٹھنا۔ یہاں آیت میں کیا مراد ہے اس کے بارے میں علماءِ کرام نے بہت مُفَصَّل کلام فرمایا ہے۔ ہم یہاں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی ایک تصنیف کی روشنی میں ایک خلاصہ بیان کرتے ہیں جس سے اس آیت اور اس طرح کی جتنی بھی آیات ہیں ان کے بارے میں صحیح عقیدہ واضح ہوجائے۔ چنانچہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’ ’اَنْسَب (یعنی زیادہ مناسب) یہی ہے کہ آیاتِ مُتَشابہات سے ظاہراً سمجھ آنے والے معنی کوایک مناسب وملائم معنی کی طرف جو کہ مُحکمات سے مطابق اور محاورات سے موافق ہو پھیر دیا جا ئے تاکہ فتنے اور گمراہی سے نجات پائیں ، یہ مسلک بہت سے متاخرین علما ء کا ہے کہ عوام کی حالت کے پیشِ نظر اسے اختیار کیا ہے، اسے’’ مسلکِ تا ویل‘‘ کہتے ہیں ، یہ علماء آیت ’’ثُمَّ اسْتَوَی عَلَی الْعَرْش‘‘
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 …ترمذی، کتاب البر والصلۃ، باب ما جاء فی التأنّی والعجلۃ، ۳/۴۰۷، الحدیث: ۲۰۱۹.
2…ترمذی، کتاب البر والصلۃ، باب ما جاء فی التأنّی والعجلۃ، ۳/۴۰۷، الحدیث: ۲۰۱۸.
3…جلد بازی کی مذمت اور اس سے متعلق دیگر چیزوں کی معلومات حاصل کرنے کے لئے کتاب’’جلد بازی‘‘ (مطبوعہ مکتبۃ المدینہ) کا مطالعہ فرمائیں۔