Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
338 - 558
اِنَّ رَبَّکُمُ اللہُ الَّذِیۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرْضَ فِیۡ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ۟ یُغْشِی الَّیۡلَ النَّہَارَ یَطْلُبُہٗ حَثِیۡثًا ۙ وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ وَالنُّجُوۡمَ مُسَخَّرٰتٍۭ بِاَمْرِہٖ ؕ اَلَا لَہُ الْخَلْقُ وَالۡاَمْرُ ؕ تَبٰرَکَ اللہُ رَبُّ الْعٰلَمِیۡنَ ﴿۵۴﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: بیشک تمہارا رب اللہ ہے جس نے آسمان اور زمین چھ دن میں بنائے پھر عرش پر استواء فرمایا جیسا اس کی شان کے لائق ہے رات دن کو ایک دوسرے سے ڈھانکتا ہے کہ جلد اس کے پیچھے لگا آتا ہے اور سورج اور چاند اور تاروں کو بنایا سب اس کے حکم کے دبے ہوئے سن لو اسی کے ہاتھ ہے پیدا کرنا اور حکم دینا بڑی برکت والا ہے اللہرب سارے جہان کا ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک تمہارا رب اللہ ہے جس نے آسمان اور زمین چھ دن میں بنائے پھر عرش پر استواء فرمایا جیسا اس کی شان کے لائق ہے، رات دن کو ایک دوسرے سے ڈھانپ دیتا ہے کہ( ایک) دوسرے کے پیچھے جلد جلد چلا آرہا ہے اور اس نے سورج اور چاند اور ستاروں کو بنایا اس حال میں کہ سب اس کے حکم کے پابند ہیں۔ سن لو! پیدا کرنا اور تمام کاموں میں تصرف کرنا اسی کے لائق ہے۔ اللہ بڑی برکت والا ہے جو سارے جہانوں کا رب ہے۔
{ اِنَّ رَبَّکُمُ اللہُ:بیشک تمہارا رب اللہ ہے۔} گزشتہ آیات میں چونکہ قیامت کے احوال کا بڑی تفصیل سے تذکرہ ہوا اور یہاں سے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عظمت، قدرت، وحدانیت اوروقوعِ قیامت پر دلائل دئیے گئے ہیں۔اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قدرت و وحدانیت کی دلیل آسمان و زمین کی تخلیق ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا اور چھ دن میں پیدا کیا جیسا کہ اِس آیت میں اور دیگر آیات میں فرمایا گیا۔ اگرآسمان و زمین ایک لمحے میں پیداہوتے تو کسی کو شبہ ہوسکتا تھا کہ یہ ایک اتفاقی حادثہ ہے لیکن جب ان کی تخلیق ایک مخصوص مدت اور مخصوص طریقہ کار سے ہوئی تو معلوم ہوا کہ اس کو کسی اور نے وجود بخشا