Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
334 - 558
{ وَلَقَدْ جِئْنٰہُمۡ بِکِتٰبٍ:اور بیشک ہم ان کے پاس ایک کتاب لائے۔} کتاب سے مراد قرآنِ پاک ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے کامل علم کی بناپر بڑی تفصیل سے بیان کیاکہ اس میں انسانی ہدایت کیلئے جن جن چیزوں کی ضرورت ہے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے وہ تمام چیزیں بیان فرمادیں اور جس چیز کی طرف اللہ عَزَّوَجَلَّ نے دعوت دی اس کی حقانیت کے زبردست دلائل قائم فرمائے اور اسے بار بار دلنشین انداز اور حسین پیرایوں میں بیان کیا ۔ قرآنِ پاک عقائد ِ حقہ اور اعمالِ صالحہ کے بیان کا حسین مجموعہ ہے۔ قرآن کی رحمتِ عامہ توسارے عالم کیلئے ہے کہ ساری دنیا کو ایک ہدایت نامہ مل گیا مگر رحمتِ خاصہ صرف مومنوں کیلئے ہے کیونکہ اس سے نفع صرف وہی اٹھاتے ہیں۔ 
ہَلْ یَنۡظُرُوۡنَ اِلَّا تَاۡوِیۡلَہٗ ؕ یَوْمَ یَاۡتِیۡ تَاۡوِیۡلُہٗ یَقُوۡلُ الَّذِیۡنَ نَسُوۡہُ مِنۡ قَبْلُ قَدْ جَآءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ ۚ فَہَلۡ لَّنَا مِنۡ شُفَعَآءَ فَیَشْفَعُوۡا لَنَاۤ اَوْ نُرَدُّ فَنَعْمَلَ غَیۡرَ الَّذِیۡ کُنَّا نَعْمَلُ ؕ قَدْ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَہُمْ وَضَلَّ عَنْہُمۡ مَّا کَانُوۡا یَفْتَرُوۡنَ ﴿۵۳﴾٪ 
ترجمۂکنزالایمان: کاہے کی راہ دیکھتے ہیں مگر اس کی کہ اس کتاب کا کہا ہوا انجام سامنے آئے جس دن اس کا بتایا انجام واقع ہوگا بول اٹھیں گے وہ جو اسے پہلے سے بھلائے بیٹھے تھے کہ بیشک ہمارے رب کے رسول حق لائے تھے تو ہیں کوئی ہمارے سفارشی جو ہماری شفاعت کریں یا ہم واپس بھیجے جائیں کہ پہلے کاموں کے خلاف کام کریں بیشک انہوں نے اپنی جانیں نقصان میں ڈالیں اور ان سے کھوئے گئے جو بہتان اٹھاتے تھے۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: وہ توصرف قرآن کے کہے ہوئے آخری انجام کا انتظام کررہے ہیں۔ جس دن وہ آخری انجام آئے گا تو جو اِس سے پہلے بھولے ہوئے تھے بول اٹھیں گے کہ بیشک ہمارے رب کے رسول حق کے ساتھ تشریف لائے تھے ،توہیں کوئی ہمارے سفارشی جو ہماری شفاعت کردیں ؟یا ہمیں واپس بھیج دیا جائے تو ہم جو پہلے عمل کیا کرتے تھے اس