Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
335 - 558
 کے برخلاف اعمال کرلیں۔ بیشک انہوں نے اپنی جانیں نقصان میں ڈالیں اور ان سے کھوگئے جویہ بہتان باندھتے تھے۔
{ ہَلْ یَنۡظُرُوۡنَ:کاہے کی راہ دیکھتے ہیں۔} یعنی وہ کفار جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلایا، ان کا انکار کیا اور ان پر ایمان نہ لائے وہ صرف اس قرآن کے بیان کئے ہوئے آخری انجام کا انتظام کررہے ہیں حالانکہ قیامت کے دن جب اس قرآن کا بتایا ہوا نجام آئے گا تو وہ کافرجو اس سے پہلے بھولے ہوئے تھے،نہ اس پر ایمان لاتے تھے اورنہ اس کے مطابق عمل کرتے تھے اقرا ر کرتے ہوئے بول اٹھیں گیکہ بیشک ہمارے رب عَزَّوَجَلَّ کے رسول جو تعلیمات لائے تھے وہ سب حق تھیں یعنی حشر و نشر، قیامت کے دن اٹھنا اور ثواب و عذاب یہ سب حق ہے۔ لیکن اس وقت ان کا اقرار کوئی فائدہ نہ دے گا اور جب اپنی جانوں کو عذاب میں دیکھیں گے اور یہ نظارہ کریں گے کہ مسلمانوں کی شفاعت ہورہی ہے اور انبیاء و اولیاء ، علماء و صلحاء ،چھوٹے بچے، ماہِ رمضان اور خانہ کعبہ وغیرہ شفاعت کررہے ہیں ، تب کف ِافسوس ملتے ہوئے کہیں گے’’ ہے کوئی جو ہماری بھی سفارش کردے اور اگر یہ نہیں تو ہمیں دنیا میں ہی واپس بھیج دیا جائے تاکہ پہلے جو اعمال کئے تھے انہیں چھوڑ کر نیک اعمال کرلیں ، کفر کی بجائے ایمان لے آئیں ، معصیت ونافرمانی کی بجائے اطاعت اور فرمانبرداری اختیار کرلیں مگر نہ اُنہیں کسی کی شفاعت نصیب ہو گی اورنہ دنیا میں واپس بھیجے جائیں گے کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ایمان اور عمل کا وقت ضائع کر کے اپنی جانیں نقصان میں ڈالیں اور اب پچھتانے کے سوا ان کے پاس کچھ نہیں بچا۔ 
{ وَضَلَّ عَنْہُمۡ:اور ان سے کھوگئے ۔} کفار جوکہتیتھے کہ بت خدا کے شریک ہیں اور اپنے پجاریوں کی شفاعت کریں گے، اب آخرت میں اُنہیں معلوم ہوگیا کہ اُن کے یہ دعوے جھوٹے تھے۔ 
جنتیوں اور جہنمیوں کے احوال بیان کرنے کا مقصد: 
	اوپر متعدد آیات میں اللہ عَزَّوَجَلَّ نے جنتیوں اور جہنمیوں کے احوال کو تفصیل سے بیان فرمایا ہے، ان کے مکالمے، جنتیوں کی نعمتیں اور جہنمیوں کے عذاب، جنتیوں کی خوشیاں اور جہنمیوں کی حسرتیں یہ سب چیزیں بیان کی گئیں۔ آیات میں جو کچھ بیان ہوا اس میں بنیادی طور پر مسلمانوں اور کافروں کے انجام کا بیان کیا گیا ہے لیکن اس کے ساتھ اصحاب ِ اعراف کا بھی بیان ہے جن کی نیکیاں اور گناہ برابر ہوں گے۔ اب یہاں مسلمانوں کا ایک وہ گروہ بھی ہوگا جن کے گناہ زیادہ اور نیکیاں کم ہوں گی اور یونہی وہ لوگ بھی ہوں گے جو نیکیوں کے باوجود کسی گناہ پر پکڑے جائیں گے۔ ان تمام چیزوں کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے ہمیں اپنی آخرت کی فکر کرنی چاہیے۔ سب سے پہلے تو کفر سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے،