ترجمۂکنزالایمان: جنہوں نے اپنے دین کو کھیل تماشا بنالیا اور دنیا کی زیست نے انہیں فریب دیا تو آج ہم انہیں چھوڑ دیں گے جیسا انہوں نے اس دن کے ملنے کا خیال چھوڑا تھا اور جیسا ہماری آیتوں سے انکار کرتے تھے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: جنہوں نے اپنے دین کو کھیل تماشا بنالیااور دنیا کی زندگی نے انہیں دھوکہ دیا تو آج ہم انہیں چھوڑ دیں گے کیونکہ انہوں نے اپنے اِس دن کی ملاقات کو بھلا رکھا تھا اوروہ ہماری آیتوں سے انکار کرتے تھے۔
{ الَّذِیۡنَ اتَّخَذُوۡا دِیۡنَہُمْ لَہۡوًا وَّ لَعِبًا:جنہوں نے اپنے دین کو کھیل تماشا بنالیا۔} اس آیت میں کفار کی ایک بری صفت بیان کی جا رہی ہے کہ ان کفار نے اپنے دین کو کھیل تماشا بنا لیا اس طرح کہ اپنی نفسانی خواہشوں کی پیروی کرتے ہوئے جسے چاہا حرام کہہ دیا اور جسے چاہا حلال قرار دے دیا اور جب انہیں ایمان قبول کرنے کی دعوت دی گئی تو یہ ایمان والوں سے مذاق مسخری کرنے لگ گئے، انہیں دنیا کی زندگی نے دھوکہ دیا کہ دنیا کی لذتوں میں مشغول ہو کر اپنے اخروی انجام کو بھول گئے اور اہل و عیال کی محبت میں گرفتار ہو کر اللہ عَزَّوَجَلَّ کی محبت سے دور ہوگئے۔ اس سے معلوم ہوا کہ دنیا کی محبت سخت خطرناک ہے۔ اسی لئے حدیثِ مبارک میں فرمایا گیا کہ دنیا کی محبت ہر برائی کی جڑ ہے۔ (1)
{ فَالْیَوْمَ نَنۡسٰہُمْ:تو آج ہم انہیں چھوڑ دیں گے۔} یعنی کفار نے دنیا میں جو معاملہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے حق میں روا رکھا تھا قیامت کے دن اس کا انجام ان کے سامنے آجائے گا چونکہ انہوں نے قیامت کا خیال تک چھوڑ رکھا تھا تو اللہ عَزَّوَجَلَّ انہیں اُن کے اس بھولنے کا بدلہ دے گا۔ یہاں اللہ تعالیٰ کی طرف نِسیان کی نسبت کا مطلب کفار کے نسیان (یعنی بھولنے) کا بدلہ دینا ہے۔
وَلَقَدْ جِئْنٰہُمۡ بِکِتٰبٍ فَصَّلْنٰہُ عَلٰی عِلْمٍ ہُدًی وَّ رَحْمَۃً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوۡنَ ﴿۵۲﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور بیشک ہم ان کے پاس ایک کتاب لائے جسے ہم نے ایک بڑے علم سے مفصل کیا ہدایت و رحمت ایمان والوں کے لیے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور بیشک ہم ان کے پاس ایک کتاب لائے جسے ہم نے ایک عظیم علم کی بنا پربڑی تفصیل سے بیان کیا، ایمان لانے والوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…جامع الاصول فی احادیث الرسول، الرکن الثانی، حرف الذال، الکتاب الثالث فی ذمّ الدنیا، الفصل الاول، ۴/۴۵۷، الحدیث: ۲۶۰۳.