Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
318 - 558
 میں ہمیشہ رہیں گے۔ اس سے دومسئلے معلوم ہوئے ایک یہ کہ ایمان اعمال پر مقدم ہے، پہلے ایمان قبول کیا جائے اور بعد میں نیک کام کئے جائیں ، دوسرا یہ کہ کوئی شخص نیک اعمال سے بے نیاز نہیں چاہے کسی طبقے اور کسی جماعت سے اس کا تعلق ہو۔
{ لَا نُکَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَاۤ :ہم کسی پر طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں رکھتے۔}  اس آیت میں مسلمانوں کیلئے بہت پیاری تسلی ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ احکام کا پابند نہیں کرتا ۔ یہ اِس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جنت میں جانے کیلئے کوئی بہت زیادہ مشقت برداشت نہیں کرنا پڑے گی بلکہ اکثر وبیشتر احکام وہ ہیں جن پر آدمی نہایت سہولت کے ساتھ عمل کرلیتا ہے جیسے نماز، روزہ اور دیگر عبادات۔ زکوٰۃ اور حج تو لازم ہی اس پر ہیں جواپنی سب ضروریات کے بعد زکوٰۃ اور حج کی ادائیگی کی بقدر زائد رقم رکھتے ہوں۔ یونہی ماں باپ، بہن بھائیوں ، رشتے داروں اور پڑوسیوں کے حقوق وغیرہ کی ادائیگی بھی عمومی زندگی کا حصہ ہے۔ یونہی ذکرو درود بھی روح کی غذا ہے اور یہی اعمال جنت میں لے جانے والے ہیں۔ تو جنت میں جانے کا راستہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے نہایت آسان بنایا ہے، صرف اپنی ہمت کا مسئلہ ہے۔ (1) 
وَ نَزَعْنَا مَا فِیۡ صُدُوۡرِہِمۡ مِّنْ غِلٍّ تَجْرِیۡ مِنۡ تَحْتِہِمُ الۡاَنْہٰرُۚ وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلہِ الَّذِیۡ ہَدٰىنَا لِہٰذَا ۟ وَمَاکُنَّا لِنَہۡتَدِیَ لَوْلَاۤ اَنْ ہَدٰىنَا اللہُ ۚ لَقَدْ جَآءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ ؕ وَنُوۡدُوۡۤااَنْ تِلْکُمُ الْجَنَّۃُ اُوۡرِثْتُمُوۡہَا بِمَا کُنۡتُمْ تَعْمَلُوۡنَ ﴿۴۳﴾ 

ترجمۂکنزالایمان: اور ہم نے ان کے سینوں میں سے کینے کھینچ لیے ان کے نیچے نہریں بہیں گی اور کہیں گے سب خوبیاں اللہ کو جس نے ہمیں اس کی راہ دکھائی اور ہم راہ نہ پاتے اگر اللہ نہ دکھاتا بیشک ہمارے رب کے رسول حق لائے اور ندا ہوئی کہ یہ جنت تمہیں میراث ملی صلہ تمہارے اعمال کا۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…نیک اعمال کی رغبت پانے کے لئے کتاب’’جنت میں لے جانے والے اعمال‘‘(مطبوعہ مکتبۃ المدینہ) کا مطالعہ بہت مفید ہے،یونہی دعوتِ اسلامی کے ساتھ وابستگی بھی بہت فائدہ مند ہے۔