Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
317 - 558
 ترجمۂکنزالایمان: انہیں آگ ہی بچھونا اور آگ ہی اوڑھنا اور ظالموں کو ہم ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: ان کے لئے آگ بچھونا ہے اور ان کے اوپر سے (اسی کا) اوڑھنا ہوگا اور ہم ظالموں کو ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں۔
{ لَہُمۡ مِّنۡ جَہَنَّمَ مِہَادٌ:ان کے لئے آگ بچھونا ہے۔} یعنی اُوپر نیچے ہر طرف سے آگ انہیں گھیرے ہوئے ہے۔ صرف اوپر نیچے کا ذکر فرمایا کیونکہ دایاں بایاں خود ہی سمجھ میں آگیا ۔ حضرت سوید بن غفلہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ’’جب اللہ تعالیٰ اس بات کا ارادہ فرمائے گا کہ جہنمی اپنے ماسوا سب کوبھول جائیں تو ان میں سے ہر شخص کے لئے اس کے قد برابر آگ کا ایک صندوق بنایا جائے گا پھر اس پر آگ کے تالوں میں سے ایک تالا لگا دیا جائے گا، پھر اس شخص کی ہر رگ میں آگ کی کیلیں لگا دی جائیں گی، پھر اس صندوق کو آگ کے دوسرے صندوق میں رکھ کر آگ کا تالا لگا دیا جائے گا ، پھر ان دونوں کے درمیان آگ جلائی جائے گی تو اب ہر کافر یہ سمجھے گا کہ اس کے سوا اب کوئی آگ میں نہ رہا۔ (1)
وَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَا نُکَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَاۤ ۫ اُولٰٓئِکَ اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ ۚ ہُمْ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿۴۲﴾ 

ترجمۂکنزالایمان: اور وہ جو ایمان لائے اور طاقت بھر اچھے کام کیے ہم کسی پر طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں رکھتے وہ جنت والے ہیں انہیں اس میں ہمیشہ رہنا۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: اور وہ جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے اعمال کئے ہم کسی پر طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں رکھتے، وہ جنت والے ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
{ وَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا:اور وہ جو ایمان لائے ۔} اس سے پہلے چند آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار کے لئے وعید اور آخرت میں جو کچھ ان کے لئے تیار فرمایا اس کا ذکر کیا، اب ایمان والوں سے جو اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا اور آخرت میں جو کچھ ان کیلئے تیار فرمایا اس کا ذکر فرما رہا ہے کہ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اچھے اعمال کئے تو وہ جنت والے ہیں اور وہ جنت
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الزہد، الشعبی، ۸/۲۸۱، الحدیث: ۱۰۔