ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ہم نے ان کے سینوں سے بغض و کینہ کھینچ لیا، ان کے نیچے نہریں بہیں گی اور وہ کہیں گے : تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے ہمیں اس کی ہدایت دی اور ہم ہدایت نہ پاتے اگر اللہ ہمیں ہدایت نہ دیتا۔ بیشک ہمارے رب کے رسول حق لائے اور انہیں نداکی جائے گی کہ یہ جنت ہے، تمہیں تمہارے اعمال کے بدلے میں اس کا وارث بنادیا گیا۔
{ وَ نَزَعْنَا:اور ہم نے کھینچ لیا۔} اللہ عَزَّوَجَلَّنے جنتیوں اور جہنمیوں کے درمیان کیسا پیارا تقابل بیان فرمایا ہے کہ اُن کے نیچے آگ کے بچھونے تھے اور اِن کے محلات کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ اُن کے گروہ ایک دوسرے پر لعنت کر رہے تھے اور اِن جنتیوں کے دلوں سے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے کینے کو نکال دیا اور یہ سب پاکیزہ دل والے ہوں گے۔ نہ تو دنیوی باتوں کا کینہ ان کے دلوں میں ہوگا اور نہ ہی جنت میں ایک دوسرے کے بلند مقامات و محلات پر حسد کریں گے بلکہ سب پیارو محبت سے رہ رہے ہوں گے۔
پاکیزہ دل ہونا جنتیوں کا وصف ہے:
اس سے معلوم ہوا کہ پاکیزہ دل ہونا جنتیوں کے وصف ہیں اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کے فضل سے امید ہے کہ جو یہاں اپنے دل کو بغض وکینہ اور حسد سے پاک رکھے گا اللہ عَزَّوَجَلَّ قیامت کے دن اسے پاکیزہ دل والوں یعنی جنتیوں میں داخل فرمائے گا۔ جنت میں جانے سے پہلے سب کے دلوں کو کینہ سے پاک کردیا جائے گا چنانچہ بخاری شریف کی حدیث ہے، حضرت ابو سعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’ جب مسلمانوں کی دوزخ سے نجات ہو جائے گی تو انہیں جنت اور دوزخ کے درمیان پل پر روک لیا جائے گا پھر ان میں سے جس نے جس کے ساتھ دنیا میں زیادتی کی ہو گی اس کا قصاص لیا جائے گا پس جب ان کوپاک اور صاف کر دیاجائے گا تب ان کو جنت میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے گی، اس ذات کی قسم جس کے قبضہ ِقدرت میں محمد (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ) کی جان ہے ان میں سے ہر ایک شخص کو جنت میں اپنے ٹھکانے کا دنیا کے ٹھکانے سے زیادہ علم ہوگا۔ (1)
بغض و کینہ کی مذمت:
یہاں چونکہ بغض وکینہ کا تذکرہ ہوا اس کی مناسبت سے یہاں بغض و کینہ کا مفہوم اور اس کی مذمت بیان کی جاتی ہے۔ چنانچہ امام محمد غزالی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں :جب آدمی عاجز ہونے کی وجہ سے فوری غصہ نہیں نکال سکتا
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…بخاری، کتاب الرقاق، باب القصاص یوم القیامۃ، ۴/۲۵۶، الحدیث: ۶۵۳۵۔