نہیں کھولا جاتا، آسمان کے فرشتے دریافت کرتے ہیں : ’’یہ کون ہے؟ روح لے جانے والے فرشتے کہتے ہیں ’’یہ فلاں شخص کی روح ہے، آسمانی فرشتے جواب دیتے ہیں ’’اس خبیث روح کو جو خبیث جسم میں تھی کوئی چیز مبارک نہ ہو، اسے ذلیل کر کے نیچے پھینک دو تو وہ اسے آسمان سے نیچے پھینک دیتے ہیں پھر وہ قبر میں لوٹ آتی ہے۔ (1)
کفار کے لئے آسمان کے دروازے نہ کھولے جانے کا دوسرا معنی یہ ہے کہ وہ خیر و برکت اور رحمت کے نزول سے محروم رہتے ہیں۔ (2)
قرآنِ پاک میں ہے:
’’ وَلَوْ اَنَّ اَہۡلَ الْقُرٰۤی اٰمَنُوۡا وَاتَّقَوۡا لَفَتَحْنَا عَلَیۡہِمۡ بَرَکٰتٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَالۡاَرْضِ وَلٰکِنۡ کَذَّبُوۡا فَاَخَذْنٰہُمۡ بِمَا کَانُوۡا یَکْسِبُوۡنَ ﴿۹۶﴾‘‘ (3)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اگر بستیو ں والے ایمان لاتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ضرور ہم ان پر آسمان اور زمین سے برکتیں کھول دیتے مگر انہوں نے تو جھٹلایا تو ہم نے انہیں ان کے اعمال کی وجہ سے (عذاب میں ) گرفتار کردیا۔
{ وَلَا یَدْخُلُوۡنَ الْجَنَّۃَ: اور وہ جنت میں داخل نہ ہوں گے۔} اس آیت میں ہمیشگی کی دوسری کیفیت کا بیان ہوا چنانچہ فرمایا گیا کہ کفار تب تک جنت میں داخل نہ ہوں گے جب تک سوئی کے سوراخ میں اونٹ داخل نہ ہو جائے اور یہ بات چونکہ محال ہے تو کفار کا جنت میں داخل ہونا بھی محال ہے کیونکہ محال پر جو موقوف ہو وہ خود محال ہوتا ہے اس سے ثابت ہوا کہ کفار کا جنت سے محروم رہنا قطعی ہے۔ یاد رہے کہ اس آیت میں مجرمین سے کفار مراد ہیں کیونکہ اُوپر ان کی صفت میں اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلانے اور ان سے تکبر کرنے کا بیان ہوچکا ہے۔
لَہُمۡ مِّنۡ جَہَنَّمَ مِہَادٌ وَّ مِنۡ فَوْقِہِمْ غَوَاشٍ ؕ وَکَذٰلِکَ نَجْزِی الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۴۱﴾
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…ابن ماجہ، کتاب الزہد، باب ذکر الموت والاستعداد لہ، ۴/۴۹۷، الحدیث: ۴۲۶۲۔
2…تفسیرکبیر، الاعراف، تحت الآیۃ: ۴۰، ۵/۲۴۰۔
3…اعراف:۹۶۔