Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
295 - 558
 کا ننگے ہو کر کعبہ معظمہ کا طواف کرنا ہے۔ حضرت عطاء رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا قول ہے کہ بے حیائی سے مراد شرک ہے اور حقیقت یہ ہے کہ ہر قبیح فعل اور تمام صغیرہ کبیرہ گناہ اس میں داخل ہیں اگرچہ یہ آیت خاص ننگے ہو کر طواف کرنے کے بارے میں آئی ہے۔ جب کفار کی ایسی بے حیائی کے کاموں پر اُن کی مذمت کی گئی تو اس پر اُنہوں نے اپنے قبیح افعال کے دو عذر بیان کئے، ایک تویہ کہ ُانہوں نے اپنے باپ دادا کو یہی فعل کرتے پایا لہٰذا اُن کی اتباع میں یہ بھی کرتے ہیں۔ اس عذر کا بار بار قرآن میں رد کردیا گیا کہ یہ اتباع تو جاہل وبدکار کی اتباع ہوئی اور یہ کسی صاحبِ عقل کے نزدیک جائز نہیں۔ اتباع تو اہلِ علم و تقویٰ کی کی جاتی ہے نہ کہ جاہل گمراہ کی۔ ان کادُوسرا عذر یہ تھا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے انہیں ان افعال کا حکم دیا ہے۔ یہ محض افتراء و بہتان تھا چنانچہ اللہ تبارک و تعالیٰ اس کارد فرماتا ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، تم جواب میں فرماؤ: بیشک اللہ عَزَّوَجَلَّ بے حیائی کا حکم نہیں دیتا۔ کیا تم اللہ عَزَّوَجَلَّ پر وہ بات کہتے ہو جس کی تمہیں خبر نہیں ؟ ‘‘اللہ عَزَّوَجَلَّ نے بے حیائی کا نہیں بلکہ ان چیزوں کا حکم دیا ہے جو بعد والی آیت میں مذکور ہیں۔
قُلْ اَمَرَ رَبِّیۡ بِالْقِسْطِ ۟ وَ اَقِیۡمُوۡا وُجُوۡہَکُمْ عِنۡدَ کُلِّ مَسْجِدٍ وَّادْعُوۡہُ مُخْلِصِیۡنَ لَہُ الدِّیۡنَ ۬ؕ کَمَا بَدَاَکُمْ تَعُوۡدُوۡنَ ﴿ؕ۲۹﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: تم فرماؤ میرے رب نے انصاف کا حکم دیا ہے اور اپنے منہ سیدھے کرو ہر نماز کے وقت اور اس کی عبادت کرو نرے  اس کے بندے ہوکر جیسے اس نے تمہارا آغاز کیا ویسے ہی پلٹو گے۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: تم فرماؤ :میرے رب نے عدل کا حکم دیا ہے اور (یہ کہ) ہر نماز کے وقت تم اپنے منہ سیدھے کرو اور عبادت کو اسی کے لئے خالص کرکے اس کی بندگی کرو۔ اس نے جیسے تمہیں پیدا کیا ہے ویسے ہی تم پلٹو گے۔ 
{ قُلْ اَمَرَ رَبِّیۡ بِالْقِسْطِ:تم فرماؤ :میرے رب نے عدل کا حکم دیا ہے۔} اس سے پہلی آیات میں ان بری باتوں کا ذکر تھا جن سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے اوراِس آیت میں ان اعمال کا ذکر کیا گیا ہے جن کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا اور جن سے وہ راضی ہے تاکہ بندے پہلی قسم کے کاموں سے بچیں اور دوسری قسم کے کام کریں۔ (1)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…تفسیر نعیمی، الاعراف، تحت الآیۃ: ۲۹، ۸/۳۸۲۔