ہر وقت جنوں کو دیکھ سکیں البتہ بعض اوقات انسان بھی جنات کو دیکھ لیتے ہیں۔
مخلوق کے لئے وسیع علم و قدرت ماننا شرک نہیں :
اس آیتِ مبارکہ سے یہ بھی معلوم ہے کہ شیطان کا علم اور اس کی قدرت بہت وسیع ہے کہ ہر زبان میں ہرجگہ ، ہر آدمی کو وسوسے ڈالنے کی طاقت رکھتا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ اس قدر وسیع علم و قدرت ماننا شرک نہیں بلکہ قرآن سے ثابت ہے لیکن ان لوگوں پر افسوس ہے جو شیطان کی وسعت ِعلم کو تو فوراً مان لیتے ہیں لیکن حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکے لئے ایسا وسیع علم ماننے کو شرک قرار دیتے ہیں۔
{ اِنَّا جَعَلْنَا الشَّیٰطِیۡنَ اَوْلِیَآءَ لِلَّذِیۡنَ لَایُؤْمِنُوۡنَ:بیشک ہم نے شیطانوں کو ایمان نہ لانے والوں کا دوست بنا دیا ہے۔} یعنی شیطان بظاہر کفار کا دوست ہے اور کفار دل سے شیطان کے دوست ہیں ورنہ شیطان درحقیقت کفار کا بھی دوست نہیں وہ تو ہر انسان کا دشمن ہے کہ سب کو اپنے ساتھ جہنم میں لیجانے کی کوشش کرنا اس کا مطلوب و مراد ہے۔
وَ اِذَا فَعَلُوۡا فٰحِشَۃً قَالُوۡا وَجَدْنَا عَلَیۡہَاۤ اٰبَآءَنَا وَاللہُ اَمَرَنَا بِہَا ؕ قُلْ اِنَّ اللہَ لَایَاۡمُرُ بِالْفَحْشَآءِ ؕ اَتَقُوۡلُوۡنَ عَلَی اللہِ مَا لَاتَعْلَمُوۡنَ ﴿۲۸﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور جب کوئی بے حیائی کریں تو کہتے ہیں ہم نے اس پر اپنے باپ دادا کو پایا اور اللہ نے ہمیں اس کا حکم دیا تو فرماؤ بیشک اللہ بے حیائی کا حکم نہیں دیتا کیا اللہ پر وہ بات لگاتے ہو جس کی تمہیں خبر نہیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جب کوئی بے حیائی کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کواسی پر پایا تھا اوراللہ نے (بھی) ہمیں اسی کا حکم دیا ہے۔ (اے حبیب!) تم فرماؤ: بیشک اللہ بے حیائی کا حکم نہیں دیتا۔ کیا تم اللہ پر وہ بات کہتے ہو جس کی تمہیں خبر نہیں ؟
{ وَ اِذَا فَعَلُوۡا فٰحِشَۃً:اور جب کوئی بے حیائی کریں۔} ’’ فٰحِشَۃً ‘‘یعنی بے حیائی کی تفسیر میں مختلف اقوال ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت مجاہد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم فرماتے ہیں : اس سے مراد زمانۂ جاہلیت کے مرد و عورت