Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
296 - 558
قسط کے معنی:
	قسط کے کئی معنی ہیں (1) حصہ۔ (2) عدل و انصاف۔ (3) ظلم۔ (4) درمیانی چیز یعنی جس میں اِفراط و تَفریط یعنی کمی زیادتی نہ ہو ۔ اکثر مفسرین کے نزدیک یہاں آیت میں ’’قسط‘‘ عدل وانصاف کے معنی میں ہے۔ یہ لفظ بہت سی چیزوں کو شامل ہے، عقائد میں عدل و انصاف کرنا، عبادات میں عدل کرنا، معاملات میں عدل کرنا، بادشاہ کا عدل کرنا، فقیر کا انصاف کرنا، اپنی اولاد، رشتہ داروں اور اپنے نفس کے معاملے میں عدل کرنا وغیرہ یہ سب اس میں داخل ہے۔ (1)
{ وَ اَقِیۡمُوۡا وُجُوۡہَکُمْ: اور تم اپنے منہ سیدھے کرو ۔} مفسرین نے اس آیت کے مختلف معنی بیان فرمائے ہیں ،امام مجاہد اور مفسر سُدّی کا قول ہے کہ اس آیت کا معنی یہ ہے کہ تم جہاں بھی ہو نماز کے وقت اپنے چہرے کعبہ کی طرف سیدھے کر لو۔ امام ضحاک رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’اس کا معنی یہ ہے کہ جب نماز کا وقت آئے اور تم مسجد کے پاس ہو تو مسجد میں نماز ادا کرو اور تم میں سے کوئی یہ نہ کہے کہ میں اپنی مسجد میں یا اپنی قوم کی مسجد میں نماز ادا کروں گا۔اور ایک قول یہ ہے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ تم اپنے سجدے خالص اللہ عَزَّوَجَلَّکے لئے کر لو۔ (2)
{مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ:خالص اس کے بندے ہو کر۔}اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اخلاص کا معنی یہ ہے کہ اللہ کی عبادت صرف اس کی رضا حاصل کرنے یا اس کے حکم کی بجا آوری کی نیت سے کی جائے ،اس میں کسی کو دکھانے یا سنانے کی نیت ہو، نہ اس میں کسی اور کو شریک کیا جائے۔ (3)
اخلاص کی حقیقت اور عمل میں اخلاص کے فضائل:
	امام راغب اصفہانی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’ اخلاص کی حقیقت یہ ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ کی عبادت (اور اس کی رضا جوئی) کے علاوہ ہر ایک کی عبادت( اور اس کی رضا جوئی) سے بری ہو جائے۔ (4)کثیر احادیث میں اخلاص کے ساتھ عمل کرنے کے فضائل بیان ہوئے ہیں ، ان میں سے 3احادیث درج ذیل ہیں :
(1)…حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…بیضاوی، الاعراف، تحت الآیۃ: ۲۹، ۳/۱۶، روح المعانی، الاعراف، تحت الآیۃ: ۲۹، ۴/۴۸۴۔
2 …بغوی، الاعراف، تحت الآیۃ: ۲۹، ۲/۱۳۰، خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: ۲۹، ۲/۸۷، ملتقطاً۔
3…خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: ۲۹، ۲/۸۷، ملتقطاً۔
4…مفردات امام راغب، کتاب الخاء، ص۲۹۳۔