Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
262 - 558
اور فرمایا:
’’کُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَۃُ الْمَوْتِ ؕ وَ نَبْلُوۡکُمۡ بِالشَّرِّ وَ الْخَیۡرِ فِتْنَۃً ؕ وَ اِلَیۡنَا تُرْجَعُوۡنَ ﴿۳۵﴾ ‘‘ (1)
ترجمۂکنزُالعِرفان: ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے اور ہم برائی اور بھلائی کے ذریعے تمہیں آزماتے ہیں اور ہماری ہی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔
	ارشاد فرمایا :
’’ فَاِذَا مَسَّ الْاِنۡسٰنَ ضُرٌّ دَعَانَا ۫ ثُمَّ اِذَا خَوَّلْنٰہُ نِعْمَۃً مِّنَّا ۙ قَالَ اِنَّمَاۤ اُوۡتِیۡتُہٗ عَلٰی عِلْمٍ ؕ بَلْ ہِیَ فِتْنَۃٌ وَّ لٰکِنَّ اَکْثَرَہُمْ لَا یَعْلَمُوۡنَ ﴿۴۹﴾‘‘ (2)
ترجمۂکنزُالعِرفان: پھر جب آدمی کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ہمیں پکارتا ہے پھر جب اسے ہم اپنے پاس سے کوئی نعمت عطا فرمائیں توکہتا ہے یہ تو مجھے ایک علم کی بدولت ملی ہے (حالانکہ ایسا نہیں ہے) بلکہ وہ تو ایک آزمائش ہے مگر ان میں اکثر لوگ جانتے نہیں۔ 
	ایک اور مقام پر فرمایا:
’’ اِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَی الْاَرْضِ زِیۡنَۃً لَّہَا لِنَبْلُوَہُمْ اَیُّہُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا ﴿۷﴾ ‘‘ (3)
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک ہم نے زمین پر موجود چیزوں کو اس کیلئے زینت بنایا تاکہ ہم انہیں آزمائیں کہ ان میں عمل کے اعتبار سے کون اچھا ہے؟
 { اِنَّ رَبَّکَ سَرِیۡعُ الْعِقَابِ:بیشک تمہارا رب بہت جلد عذاب دینے والا ہے۔}یعنی اللہ تعالیٰ فاسق و فاجر اور گنہگار کو بہت جلد سزا دینے والا ہے۔ اس مقام پر ایک اعتراض یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حلیم ہونے میں کوئی شک نہیں ہے، وہ اپنے نافرمان کو جلدی سزا نہیں دیتا پھر کس طرح فرمایا کہ’’بیشک تمہارا رب بہت جلد عذاب دینے والا ہے۔‘‘ اس کا جواب دیتے ہوئے ابو عبداللہ محمد بن احمد انصاری قرطبی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’ ہر وہ کام جویقینا ہونے والا ہے وہ قریب ہی ہے۔ (4)
	تفسیرِ صاوی میں ہے کہ ’’سَرِیۡعُ الْعِقَابِ‘‘ کا معنی ہے جب عذاب کا وقت آ جائے تو اس وقت اللہ  تعالیٰ عذاب نازل کرنے میں دیر نہیں فرماتا۔ (5)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1… الانبیاء:۳۵۔
2…الزمر:۴۹۔
3…کہف:۷۔
4…قرطبی، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۶۵، ۴/۱۱۶، الجزء السابع۔
5…صاوی، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۶۵، ۲/۶۵۳