Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
261 - 558
 تمہیں آزمائے اس چیز میں جو تمہیں عطا کی بیشک تمہارے رب کو عذاب کرتے دیر نہیں لگتی اور بیشک وہ ضرور بخشنے والا مہربان ہے۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: اور وہی ہے جس نے زمین میں تمہیں نائب بنایا اور تم میں ایک کو دوسرے پر کئی درجے بلندی عطا فرمائی تاکہ وہ تمہیں اس چیز میں آزمائے جو اس نے تمہیں عطا فرمائی ہے بیشک تمہارا رب بہت جلد عذاب دینے والا ہے اور بیشک وہ ضرور بخشنے والا مہربان ہے۔
{ وَ ہُوَ الَّذِیۡ جَعَلَکُمْ خَلٰٓئِفَ الۡاَرْضِ:اور وہی ہے جس نے زمین میں تمہیں نائب بنایا۔} کیونکہ سیّدِ عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ خاتَمُ النبییّن ہیں آپ کے بعد کوئی نبی نہیں اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی اُ مت سب امتوں میں آخری امت ہے، اس لئے ان کو زمین میں پہلوں کا خلیفہ کیا کہ اس کے مالک ہوں اور اس میں تصرف کریں۔ اور فرمایا: ’’اور تم میں ایک کو دوسرے پر درجوں بلندی دی‘‘ یعنی شکل و صورت میں ،حسن و جمال میں ،رزق و مال میں ،علم و عقل میں اور قوت و کمال میں ایک کو دوسرے پر بلندی دی اور اس کا مقصد تمہاری آزمائش کرنا ہے کہ کون نعمتوں کے ملنے پر شکر ادا کرتا ہے اور کون ظلم و زیادتی کی راہ پر چلتا ہے؟ کون امتحان میں کامیاب ہوتا ہے اور کون ناکام ہوتا ہے؟ 
	قرآنِ کریم کی اور آیات میں بھی اس چیز کو بیان کیاگیا ہے ،چنانچہ ایک اور مقام پر ارشادِ باری تعالیٰ ہے : 
’’ اَحَسِبَ النَّاسُ اَنۡ یُّتْرَکُوۡۤا اَنۡ یَّقُوۡلُوۡۤا اٰمَنَّا وَہُمْ لَا یُفْتَنُوۡنَ ﴿۲﴾ ‘‘ (1)
ترجمۂکنزُالعِرفان:کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھاہے کہ انہیں صرف اتنی بات پر چھوڑ دیا جائے گا کہ وہ کہتے ہیں ہم’’ ایمان لائے ‘‘ اور انہیں آزمایا نہیں جائے گا؟
	اور ارشاد فرمایا:
’’ وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیۡءٍ مِّنَ الْخَوۡفِ وَالْجُوۡعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الۡاَمۡوٰلِ وَالۡاَنۡفُسِ وَالثَّمَرٰتِ‘‘ (2)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ہم ضرورتمہیں کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے آزمائیں گے اور صبر کرنے والوں کوخوشخبری سنا دو۔ 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…عنکبوت:۲۔
2…بقرہ:۱۵۵۔