سورۂ اعراف
سورۂ اعراف کا تعارف
مقامِ نزول:
یہ سورت مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ہے اور ایک روایت کے مطابق پانچ آیتوں کے علاوہ یہ سورت مکیہ ہے، ان پانچ آیات میں سے پہلی آیت ’’ وَسْـَٔلْہُمْ عَنِ الْقَرْیَۃِ الَّتِیۡ‘‘ ہے۔ (1)
آیات،کلمات اورحروف کی تعداد:
اس سورت میں 206 آیتیں ، 24 رکوع، 3325 کلمے اور 14010 حروف ہیں۔ (2)
’’اَعراف‘‘نام رکھنے کی وجہ :
اعراف کا معنی ہے بلند جگہ، اس سورت کی آیت نمبر 46میں جنت اور دوزخ کے درمیان ایک جگہ اعراف کا ذکر ہے جو کہ بہت بلند ہے، اس مناسبت سے اس سورت کا نام ’’سورۂ اعراف ‘‘رکھا گیا۔
سورۂ اَعراف کی فضیلت:
حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْھا سے روایت ہے، رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’جس نے قرآنِ پاک کی پہلی 7 بڑی سورتوں کوحفظ کیا اور ان کی تلاوت کرتا رہا تو یہ اس کے لئے کثیر ثواب کا باعث ہے۔ (3)ان سات سورتوں میں سے ایک سورت اعراف بھی ہے۔
سورۂ اَعراف کے مضامین:
یہ مکی سورتوں میں سب سے بڑی سورت ہے اور اس سورت کا مرکزی مضمون یہ کہ اس میں انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے حالات اور انہیں جھٹلانے والی قوموں کے انجام کے واقعات بیان کر کے اس امت کے لوگوں کو ان قوموں جیسا عذاب نازل ہونے سے ڈرانا، ایمان اور نیک اعمال کی ترغیب دینا ہے۔ نیز اس سورت میں اسلام کے بنیادی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، الاعراف، ۲/۷۶۔
2 …خازن، الاعراف، ۲/۷۶۔
3…مستدرک، کتاب فضائل القرآن، من اخذ السبع الاول من القرآن فہو خیر، ۲/۲۷۰، الحدیث: ۲۱۱۴۔