Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
260 - 558
 پر، اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی اور بتایا گیا کہ وہ راستہ باطل ہے، خدا شناس کس طرح گوارا کرسکتا ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا کسی اور کو خدا مانے، نیزیہ بات بھی باطل ہے کہ کسی کا گناہ دوسرا اٹھا سکے بلکہ  ہرشخص جو عمل کرے گا وہ اسی پر ہے ۔ 
{ وَلَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی:اور کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گی۔}یعنی مجرم گناہ سے بالکل بری ہو جائے اور کسی دوسرے پر اس کے گناہ ڈال دئیے جائیں یہ نہیں ہوسکتا اور یونہی ایک آدمی کے گناہ دوسرے پر بغیر کسی سبب کے ڈال دئیے جائیں یہ بھی نہیں ہوسکتا البتہ جو آدمی گناہ کا طریقہ ایجاد کرے یا دوسرے کو گمراہ کرے یا گناہ کے راستے پر لگائے تو یہ اپنے ان افعال کی وجہ سے پکڑ میں آئے گا اور یہ اِس کے گناہ کی شدت ہوگی کہ اِس کی وجہ سے جتنے لوگوں نے جتنے گناہ کئے اُن سب کے وہ گناہ اِس پہلے آدمی پر ڈال دئیے جائیں۔ حقیقت میں یہ اِس آدمی کے اپنے ہی اعمال کا انجام ہے نہ یہ کہ بلاوجہ دوسروں کے گناہ اِس پر ڈال دئیے گئے اور یہ بات قرآن و حدیث سے ثابت ہے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ فرماتا ہے:
’’ وَ لَیَحْمِلُنَّ اَثْقَالَہُمْ وَاَثْقَالًا مَّعَ اَثْقَالِہِمْ ‘‘ (1)

ترجمۂکنزُالعِرفان:اور وہ اپنے بوجھ اٹھائیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ اور بوجھ اٹھائیں گے۔‘‘ 
	سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’جس نے ہدایت کی طرف بلایا اور لوگوں نے اس کی پیروی کرتے ہوئے ان باتوں پر عمل کیا تو بلانے والے کو پیروی کرنے والوں کے ثواب کے برابر ثواب ملے گا اور ان کے اجر میں بھی کوئی کمی نہ ہو گی اورجس نے گمراہی کی دعوت دی اور لوگوں نے اس کی پیروی کرتے ہوئے ان باتوں پر عمل کیا تو دعوت دینے والے کو پیروی کرنے والوں کے گناہ کے برابر گناہ ملے گا اور ان کے گناہوں میں بھی کوئی کمی نہ ہو گی۔ (2)
وَ ہُوَ الَّذِیۡ جَعَلَکُمْ خَلٰٓئِفَ الۡاَرْضِ وَرَفَعَ بَعْضَکُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّیَبْلُوَکُمْ فِیۡ مَاۤ اٰتٰىکُمْ ؕ اِنَّ رَبَّکَ سَرِیۡعُ الْعِقَابِ ۫ۖ وَ اِنَّہٗ لَغَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۶۵﴾٪ 
ترجمۂکنزالایمان: اور وہی ہے جس نے زمین میں تمہیں نائب کیا اور تم میں ایک کو دوسرے پر درجوں بلندی دی کہ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…عنکبوت: ۱۳۔
2…در منثور، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۱۳، ۶/۴۵۴۔