قُلْ اِنَّ صَلَاتِیۡ وَنُسُکِیۡ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیۡ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۶۲﴾ۙ
ترجمۂکنزالایمان: تم فرماؤ بیشک میری نماز اور میری قربانیاں اور میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ کے لیے ہے جو رب سارے جہان کا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تم فرماؤ، بیشک میری نماز اور میری قربانیاں اور میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ کے لیے ہے جو سارے جہانوں کا رب ہے۔
{ وَ مَحْیَایَ:اور میرا جینا۔} یہاں جو فرمایا گیا وہ حقیقتاً ایک مومن زندگی کی عکاسی ہے کہ مسلمان کا جینا، مرنا، اور عبادت و ریاضت سب کچھ اللہ عَزَّوَجَلَّ کیلئے ہونا چاہیے۔ زندگی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا کے کاموں میں اور جینے کا مقصد اللہ عَزَّوَجَلَّ کے دین کی سربلندی ہو۔ یونہی مرنا حالت ِ ایمان میں ہو اور ہوسکے تو کلمۂ حق بلند کرنے کیلئے ہو۔ یونہی عبادت کا شرکِ جلی سے پاک ہونا تو بہرحال ایمانیات میں داخل ہے، عبادت شرک ِ خفی یعنی ریاکاری سے بھی پاک ہو اور خالصتاً اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا و خوشنودی کیلئے ہو۔
ۙ لَا شَرِیۡکَ لَہٗ ۚ وَ بِذٰلِکَ اُمِرْتُ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیۡنَ ﴿۱۶۳﴾
ترجمۂکنزالایمان: اس کا کوئی شریک نہیں مجھے یہی حکم ہوا ہے اور میں سب سے پہلا مسلمان ہوں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اس کا کوئی شریک نہیں ، اسی کامجھے حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلا مسلمان ہوں۔
{ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیۡنَ:اور میں سب سے پہلا مسلمان ہوں۔} اوّلیت یا تو اس اعتبار سے ہے کہ انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا اسلام اُن کی امت پر مقدم ہوتا ہے (1) یا اس اعتبار سے کہ سیّدِ عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ اوّل مخلوقات ہیں تو ضرور اولُ المسلمین ہوئے۔ (2)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…بیضاوی، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۶۳، ۲/۴۷۲۔
2…قرطبی، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۶۳، ۴/۱۱۳، الجزء السابع۔