حَنِیۡفًا ۚ وَ مَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیۡنَ ﴿۱۶۱﴾
ترجمۂکنزالایمان: تم فرماؤ بیشک مجھے میرے رب نے سیدھی راہ دکھائی ٹھیک دینِ ابراہیم کی ملّت جو ہر باطل سے جُدا تھے اور مشرک نہ تھے ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تم فرماؤ، بیشک مجھے میرے رب نے سیدھے راستے کی طرف ہدایت فرمائی، (یہ) مضبوط دین ہے جوہر باطل سے جدا ابراہیم کی ملت ہے اور وہ مشرکوں میں سے نہیں تھے۔
{ قُلْ اِنَّنِیۡ ہَدٰىنِیۡ رَبِّیۡۤ:تم فرماؤ، بیشک مجھے میرے رب نے ہدایت فرمائی۔} اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے ایک یہ کہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو بلاواسطہ رب تعالیٰ نے عقائد، اعمال ہر قسم کی ہدایت دی۔، دوسرے یہ کہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ اول سے ہدایت پر تھے ایک آن کے لئے اس سے دور نہ ہوئے۔ جو ایک آن کے لئے بھی حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکو ہدایت سے علیحدہ مانے وہ اس آیت کا منکر ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، سرکارِ دوعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا:’’ میرے رب نے مجھے ادب سکھایا اور بہت اچھا ادب سکھایا۔ (1)
{ وَ مَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیۡنَ:اور (ابراہیم) مشرکوں میں سے نہ تھے۔} اس میں کفارِ قریش کا رد ہے جو گمان کرتے تھے کہ وہ دین ابراہیمی پر ہیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ حضرت ابراہیمعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام مشرک و بت پرست نہ تھے تو بت پرستی کرنے والے مشرکین کا یہ دعویٰ کہ وہ ابراہیمی ملت پر ہیں باطل ہے۔
عظمتِ انبیاء:
اس سے معلوم ہوا کہ پیغمبروں سے کفار کے الزام اٹھانا سنتِ الٰہیہ ہے، جو ان کی عزت و عظمت پر اپنی جان و مال، تحریر، تقریر صرف کرتا ہے وہ اللہ عَزَّوَجَلَّکے نزدیک مقبول ہے۔ رب تعالیٰ نے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے کفار کا یہ الزام دفع فرمایا کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام مَعَاذَاللہ مشرک تھے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…جامع صغیر، حرف الہمزۃ، ص۲۵، الحدیث: ۳۱۰۔