علامہ احمد صاوی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’اس آیت میں جو جزا بیان ہوئی یہ اس کے لئے ہے جو نیکی یا گناہ کرے البتہ جس نے نیکی کا ارادہ کیا اور اسے کر نہ سکا تو اس کے لئے ایک نیکی لکھی جائے گی اور جس نے گناہ کا ارادہ کیا لیکن گناہ کیا نہیں ، اب اگر اس نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے خوف کی وجہ سے گناہ چھوڑا ہو گا تو اس کے نامۂ اعمال میں ایک نیکی لکھی جائے گی ورنہ کچھ نہ لکھا جائے گا۔ (1)
یاد رہے کہ ثواب کے اکثر درجات کی کوئی حد نہیں ، قرآنِ پاک میں سات سو گنا کا ذکر فرمانے کے بعد فرمایا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّجس کیلئے چاہے اس سے بھی زیادہ بڑھا دے اور قرآنِ پاک میں صبر پر بے حساب اجر کا وعدہ ہے اور حدیث میں مکہ سے پیدل حج کرنے پر ہر قدم پر سات کروڑ نیکیوں کی بشارت ہے۔
{ وَہُمْ لَا یُظْلَمُوۡنَ:اور ان پر ظلم نہیں کیاجائے گا۔} ارشاد فرمایا کہ ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا خواہ اس طرح کہ اطاعت گزار اور نیک اعمال کرنے والے کے ثواب میں کمی کر دی جائے اور نافرمان اور گنہگار کو اس کے جرم سے زیادہ سزا دے دی جائے یااس طرح کہ انہیں جرم کئے بغیر عذاب دیا جائے۔ اس سے معلوم ہوا کہ کفار کے چھوٹے بچے جو بچپن میں فوت ہو جائیں وہ دوزخی نہیں کیونکہ انہوں نے کوئی گناہ نہیں کیا۔
ظلم کے معنی:
ظلم کے دو معنی ہیں :
(1)… کسی غیر کی چیز میں بلا اجازت تصرف کرنا۔ (2)
(2)… بے قصور کو سزا دے دینا یا کام لے کر اس کی اجرت نہ دینا۔ (3)
ان جیسی آیات میں ظلم کے دوسرے معنی مراد ہیں اور حدیثِ پاک کہ اگر خدا تمام دنیا کو دوزخ میں بھیج دے تو ظالم نہیں۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ ہر چیز اللہ عَزَّوَجَلَّ کی مِلکیت ہے اور اللہ عَزَّوَجَلَّاپنی ملکیت میں جیسے چاہے تصرف فرمائے۔
قُلْ اِنَّنِیۡ ہَدٰىنِیۡ رَبِّیۡۤ اِلٰی صِرٰطٍ مُّسْتَقِیۡمٍ ۬ۚ دِیۡنًا قِیَمًا مِّلَّۃَ اِبْرٰہِیۡمَ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…تفسیر صاوی، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۶۰، ۲/۶۵۲۔
2…صاوی، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۶۰، ۲/۶۵۲۔
3…جامع العلوم والحکم، الحدیث الرابع والعشرون، ص۲۸۱، التیسیر شرح جامع صغیر، حرف العین، ۲/۱۳۵۔