Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
255 - 558
ترجمۂکنزالایمان: جو ایک نیکی لائے تو اس کے لیے اس جیسی دس ہیں اور جو برائی لائے تو اسے بدلہ نہ ملے گا مگر اس کے برابر اور ان پر ظلم نہ ہوگا۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: جو ایک نیکی لائے تو اس کے لیے اس جیسی دس نیکیاں ہیں اور جو کوئی برائی لائے تو اسے صرف اتنا ہی بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیاجائے گا۔ 
{ مَنۡ جَآءَ بِالْحَسَنَۃِ:جو ایک نیکی لائے۔} یعنی ایک نیکی کرنے والے کو دس نیکیوں کی جزا اور یہ کوئی انتہائی مقدار نہیں بلکہ یہ تو فضل الٰہی کی ابتدا ہے۔ اللہ تعالیٰ جس کے لئے جتنا چاہے اس کی نیکیوں کو بڑھائے ایک کے سات سو کرے یا بے حساب عطا فرمائے۔
ثواب کے درجات:
	اس آیت سے متعلقعلامہ عبد الرؤوف مناوی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : اس آیت میں جس اضافے کا وعدہ کیا ہے یہ اس کا کم ازکم حصہ ہے۔ (1)
	ایک اورمقام پرارشاد فرماتے ہیں : آیت سے مرادکہ ’’جو ایک نیکی لائے‘‘ کے مقابلے میں ثواب کے مراتب میں سے اَقَل مرتبے کا بیان ہے اور اس کے اکثر مرتبے کی کوئی انتہا نہیں۔ (2)
	حضرت ملا علی قاری رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ظاہر یہ ہے کہ یہ اقل (یعنی کم از کم) اضافہ ہے۔ (3)
	ایک اور مقام پر فرمایا ’’اور وہ زیادتی کا قلیل مرتبہ ہے جس کا وعدہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں کیا گیا ہے’’ مَنۡ جَآءَ بِالْحَسَنَۃِ فَلَہٗ عَشْرُ اَمْثَالِہَا ‘‘جو ایک نیکی لائے تو اس کے لئے اس جیسی دس ہیں۔ (4)
	حضرت علامہ عبد الرحمن بن شہاب الدین بغدادی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :’’ نیکی کا دس گنا اضافہ تمام نیکیوں کے لئے لازم ہے، اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانِ عالیشان ہے’’ مَنۡ جَآءَ بِالْحَسَنَۃِ فَلَہٗ عَشْرُ اَمْثَالِہَا ‘‘ جو ایک نیکی لائے تو اس کے لئے اس جیسی دس ہیں۔‘‘ (5)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…فیض القدیر، حرف الہمزۃ، ۲/۳۱۳، تحت الحدیث: ۱۷۶۳۔
2…فیض القدیر، حرف المیم، ۶/۱۸۸، تحت الحدیث: ۸۷۳۱۔
3…مرقاۃ المفاتیح، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم وفضلہا، الفصل الاول، ۳/۱۰، تحت الحدیث: ۹۲۱۔
4…مرقاۃ المفاتیح، کتاب فضائل القرآن، الفصل الثانی، ۴/۶۴۷، تحت الحدیث: ۲۱۳۷۔