ارشاد فرمایا: ’’وَالَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہ لَتَفْتَرِقَنَّ اُمَّتِیْ عَلٰی ثَلَا ثٍ وَسَبْعِیْنَ فِرْقَۃً، وَاحِدَۃٌ فِی الْجَنَّۃِ وَثِنْتَانِ وَسَبْعُوْنَ فِی النَّارِ، قِیْلَ یَا رَسُوْلَ اللہِ مَنْ ہُمْ قَالَ اَلْجَمَاعَۃُ‘‘اس ذات کی قسم !جس کے دستِ قدرت میں محمد (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ) کی جان ہے، میری امت 73 فرقوں میں تقسیم ہو جائے گی (ان میں سے) ایک جنت میں جائے گا اور 72جہنم میں جائیں گے۔ عرض کی گئی: یا رسولَ اللہ ! (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ) وہ جنتی کون ہوں گے ؟ارشاد فرمایا :وہ جماعت ہے۔(1)
واقعات نے ثابت کر دیا ہے کہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے اختلافِ امت کے بارے میں جو کچھ فرمایا وہ عین حق اور صواب پر مبنی تھا۔
تیسری بات:یہ بات انتہائی قابلِ غور ہے کہ اس دورِ اختلاف میں حق پسند اور نجات پانے والے گروہ کا پتا کیسے چلے گا، کس طرح معلوم ہو گا کہ موجودہ فرقوں میں حق پر کون ہے۔ اس کی رہنمائی بھی حدیث پاک میں کر دی گئی ہے کہ ’’اِذَا رَاَیْتُمْ اِخْتِلَافًا فَعَلَیْکُمْ بِالسَّوَادِ الْاَعْظَمْ‘‘جب تم اختلاف دیکھو تو سب سے بڑی جماعت کو لازم پکڑ لو۔ (2)
اس روایت میں اختلاف سے مراد اصولی اختلاف ہیں جس میں ’’کفر و ایمان‘‘ اور ’’ہدایت وضلالت ‘‘ کا فرق پایا جائے، فروعی اختلاف ہر گز مراد نہیں کیونکہ وہ تو رحمت ہے جیسا کہ حدیثِ پاک میں ہے ’’اِخْتِلَافُ اُمَّتِیْ رَحْمَۃٌ‘‘ میری امت کا (فروعی) اختلاف رحمت ہے۔(3)
اس تفصیل کو ذہن میں رکھ کر موجودہ اسلامی فرقوں میں اس بڑے فرقے کو تلاش کیجئے جو باہم اصولوں میں مختلف نہ ہوں اور جس قدر اسلامی فرقے اس کے ساتھ اصولی اختلاف رکھتے ہوں وہ ان سب میں بڑا ہو۔ آپ کو اہلسنّت و جماعت کے سوا کوئی نہ ملے گا جس میں حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی، قادری، چشتی، سہروردی، نقشبندی، اشعری ، ماتریدی سب شامل ہیں یہ سب اہلسنّت ہیں اور ان کے مابین کوئی ایسا اصولی اختلاف نہیں جس میں کفر و ایمان یا ہدایت و ضَلال کا فرق پایا جائے لہٰذا اس پر فتن دور میں حدیثِ مذکور کی رُو سے سوادِ اعظم اہلسنّت و جماعت ہے اور اس کا حق پر ہونا بھی ثابت ہوا۔
مَنۡ جَآءَ بِالْحَسَنَۃِ فَلَہٗ عَشْرُ اَمْثَالِہَا ۚ وَمَنۡ جَآءَ بِالسَّیِّئَۃِ فَلَا یُجْزٰۤی اِلَّا مِثْلَہَا وَہُمْ لَا یُظْلَمُوۡنَ ﴿۱۶۰﴾
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…ابن ماجہ، کتاب الفتن، باب افتراق الامم،۴/۳۵۲، الحدیث: ۳۹۹۲۔
2…ابن ماجہ، کتاب الفتن، باب السواد الاعظم،۴/۳۲۷، الحدیث: ۳۹۵۰۔
3…کنز العمال، کتاب العلم، قسم الاقوال، ۵/۵۹، الحدیث: ۲۸۶۸۲، الجزء العاشر۔