رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکی بعثت سے پہلے وہ ایک دوسرے سے ا ختلاف کرتے تھے اور بعد میں مختلف فرقوں میں تقسیم ہو گئے۔ (1)
(2)… حضرت حسن بصری رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’ان سے تمام مشرکین مراد ہیں کیونکہ ان میں سے بعض نے بتوں کی پوجا کی اور کہا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ہماری سفارش کریں گے۔ بعض نے فرشتوں کی عبادت کی اور کہا کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں اور بعض نے ستاروں کی پرستش کی، تو یہ ان کی دین میں تفریق ہے۔ (2)
فرقہ بندی کا سبب اور حق پر کون؟
حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں ’’اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو جماعت کے ساتھ وابستہ رہنے کا حکم دیا ہے اور انہیں اختلاف اور فرقہ بندی سے منع فرمایا ہے اور یہ خبر دی ہے کہ ان سے پہلے لوگ اللہ عَزَّوَجَلَّکے دین میں جھگڑنے کی وجہ سے ہلاک ہو گئے۔ (3)
خلاصہ یہ کہ اس آیت میں مسلمانوں کو ایک نظریے پر متفق ہونے، دین میں فرقہ بندی اور بِدعات اختیار کرنے سے بچنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ فی زمانہ بعض لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ اسلام میں فرقہ بندی کیوں ہے اور ان میں حق پر کون ہے؟ اس سلسلے میں چند باتیں ذہن نشین کر لیجئے،اِنْ شَآئَ اللہ! آپ پر خود ہی واضح ہو جائے گا کہ فرقہ بندی کا اصل سبب کیا ہے اور مختلف فرقوں میں سے حق پر کونسا فرقہ ہے
پہلی بات : یہ امت کبھی گمراہی پر جمع نہ ہو گی۔حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: ’’اِنَّ اُمَّتِیْ لَا تَجْتَمِعُ عَلٰی ضَلَالَۃٍ فَاِذَارَاَیْتُمْ اِخْتِلَافًا فَعَلَیْکُمْ بِالسَّوَادِ الْاَعْظَمِ‘‘میری امت گمراہی پر جمع نہ ہوگی، جب تم اختلاف دیکھو تو سب سے بڑی جماعت کو لازم پکڑ لو۔ (4)
دوسری بات: حضور انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے صدیوں پہلے ہی اس اختلاف اور فرقہ بندی کے بارے میں پیشین گوئی فرما دی تھی، چنانچہ حضرت عوف بن مالک سے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…تفسیر ابن ابی حاتم، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۵۹، ۵/۱۴۳۰۔
2…خازن، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۵۹، ۲/۷۲۔
3…تفسیر ابن ابی حاتم، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۵۹، ۵/۱۴۳۰۔
4…ابن ماجہ، کتاب الفتن، باب السواد الاعظم،۴/۳۲۷، الحدیث:۳۹۵۰۔