کے بارے میں اپنے اندر بیداری اور جانْفشانی پیدا کرو،( اگر تم نے جلد توبہ کر لی) تو عنقریب تمہارے دل سے گناہوں کے اصرار کی بیماری کا قَلع قَمع ہو جائے گا اور گناہوں کے بوجھ سے تمہاری گردن آزاد ہو جائے گی اور گناہوں کی وجہ سے دل میں جو قساوت اور سختی پیدا ہوتی ہے ا س سے ہر گز بے خوف نہ ہو بلکہ ہر وقت اپنے حال پر نظر رکھو، اپنے نفس کو گناہوں پر ٹوکتے رہو اور اس کا محاسبہ کرتے رہو اور توبہ و استغفار کی طرف سبقت و جلدی کرو اور ا س میں کسی قسم کی سستی اور کوتاہی نہ کرو کیونکہ موت کا وقت کسی کو معلوم نہیں اور دنیا کی زندگی محض دھوکہ اور فریب ہے۔ (1)
{قُلِ انْتَظِرُوْا:تم فرمادو: تم انتظار کرو ۔} یعنی اے کافرو! تم موت کے فرشتوں کی آمد یا عذاب یا نشانی، ان میں سے کسی ایک کے آنے کا انتظار کرو اور ہم بھی تم پر عذاب آنے کا انتظار کر رہے ہیں۔ عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ کس کا انتظار درست تھا چنانچہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے فضل سے کافر ہلاک اور مغلوب ہوئے جبکہ مسلمانوں کو غلبہ عطا ہوا اور قیامت کے دن بھی کفار ہلاک ہوں گے اور مومن کامیاب و کامران ہو کر سُرخرو ہوں گے۔
اِنَّ الَّذِیۡنَ فَرَّقُوۡا دِیۡنَہُمْ وَکَانُوۡا شِیَعًا لَّسْتَ مِنْہُمْ فِیۡ شَیۡءٍؕ اِنَّمَاۤ اَمْرُہُمْ اِلَی اللہِ ثُمَّ یُنَبِّئُہُمۡ بِمَا کَانُوۡا یَفْعَلُوۡنَ ﴿۱۵۹﴾
ترجمۂکنزالایمان: وہ جنہوں نے اپنے دین میں جدا جدا راہیں نکالیں او رکئی گروہ ہوگئے اے محبوب تمہیں ان سے کچھ علا قہ نہیں ان کا معاملہ اللہ ہی کے حوالے ہے پھر وہ انہیں بتا دے گا جو کچھ وہ کرتے تھے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک وہ لوگ جنہوں نے اپنے دین کے ٹکڑے ٹکڑے کردیے اور خود مختلف گروہ بن گئے اے حبیب! آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کا معاملہ صرف اللہ کے حوالے ہے پھر وہ انہیں بتادے گا جو کچھ وہ کیاکرتے تھے۔
{ اِنَّ الَّذِیۡنَ فَرَّقُوۡا دِیۡنَہُمْ:بیشک وہ لوگ جنہوں نے اپنے دین کے ٹکڑے ٹکڑے کردیے۔} اپنا دین ٹکڑے ٹکڑے کرنے والوں سے کون لوگ مراد ہیں ، اس بارے میں مفسرین کے مختلف اقوال ہیں ، ان میں سے دو قول درج ذیل ہیں :
(1)… حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں ’’ان لوگوں سے مراد یہودی اور عیسائی ہیں۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…منہاج العابدین، العقبۃ الثانیۃ، ص۳۵-۳۶۔