(1)… حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے ،سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’اے تاجروں کے گروہ! دو ایسے کام تمہارے سپرد کئے گئے ہیں کہ جن کی وجہ سے تم سے پہلے لوگ ہلاک ہوئے، یہ ناپنا اور تولنا ہے۔ (1)
(2)… حضرت عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے ،رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’اے مہاجرین کے گروہ! جب تم پانچ باتوں میں مبتلا کر دئیے جاؤ (تو اس وقت تمہاری کیا حالت ہو گی) اور میں اللہ عَزَّوَجَلَّ سے پناہ طلب کرتا ہوں کہ تم انہیں پاؤ۔
(۱)… جب کسی قوم میں اعلانیہ فحاشی عام ہو جائے گی تو ان میں طاعون اور ایسی بیماریاں ظاہر ہو جائیں گی جو ان سے پہلوں میں کبھی ظاہر نہ ہوئی تھیں (جیسے آجکل ایڈز، Aids وغیرہ)
(۲)…جب لوگ ناپ تول میں کمی کرنے لگ جائیں گے تو قحط سالی، شدید تنگی اور بادشاہ کے ظلم کا شکار ہوجائیں گے۔
(۳)… جب زکوٰۃ کی ادائیگی چھوڑ دیں گے تو آسمان سے بارش روک دی جائے گی اور اگر چوپائے نہ ہوتے تو ان پر کبھی بارش نہ برستی۔
(۴)… جب لوگ اللہ اور اس کے رسول کا عہد توڑنے لگیں گے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ ان پر دشمن مسلَّط کر دے گا جو ان کا مال وغیرہ سب کچھ چھین لے گا ۔
(۵)… جب حکمران اللہ عَزَّوَجَلَّکے قانون کو چھوڑ کر دوسرا قانون اور اللہ تعالیٰ کے احکام میں سے کچھ لینے اور کچھ چھوڑنے لگ جائیں گے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ ان کے درمیان لڑائی جھگڑا ڈال دے گا۔‘‘ (2)
اس روایت کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے موجودہ حالات پر غور کریں کہ آج ہم میں خطرناک اور جان لیوا بیماریوں کا پھیلاؤ ، قحط سالی، شدید تنگی اور حکمرانوں کے ظلم کاسامنا، دشمن کا تَسَلُّط اور مال واسباب کا لٹ جانا، تَعَصُّب اور ہمارے لسانی ،قومی اختلافات یہ سب ہمارے کن اعمال کا نتیجہ ہیں۔
دیکھے ہیں یہ دن اپنی ہی غفلت کی بدولت شکوہ ہے زمانے کا نہ قسمت سے گلا ہے
جو کچھ بھی ہے سب اپنے ہی ہاتھوں کے ہیں کرتوت سچ ہے کہ برے کام کا انجام برا ہے
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…شعب الایمان، الخامس والثلاثون من شعب الایمان، ۴/۳۲۸، الحدیث: ۵۲۸۸۔
2…ابن ماجہ، کتاب الفتن، باب العقوبات، ۴/۳۶۷، الحدیث: ۴۰۱۹۔