وَلَا تَقْرَبُوۡا مَالَ الْیَتِیۡمِ اِلَّا بِالَّتِیۡ ہِیَ اَحْسَنُ حَتّٰی یَبْلُغَ اَشُدَّہٗ ۚ وَ اَوْفُوا الْکَیۡلَ وَالْمِیۡزَانَ بِالْقِسْطِۚ لَا نُکَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَا ۚ وَ اِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوۡا وَلَوْکَانَ ذَا قُرْبٰیۚ وَ بِعَہۡدِ اللہِ اَوْفُوۡا ؕ ذٰلِکُمْ وَصّٰکُمۡ بِہٖ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوۡنَ ﴿۱۵۲﴾ۙ
ترجمۂکنزالایمان: اور یتیم کے مال کے پاس نہ جاؤ مگر بہت اچھے طریقے سے جب تک وہ اپنی جوانی کو پہنچے اور ناپ اور تول انصاف کے ساتھ پوری کرو ہم کسی جان پر بوجھ نہیں ڈالتے مگر اس کے مقدور بھر اور جب بات کہو تو انصاف کی کہو اگرچہ تمہارے رشتہ دار کا معاملہ ہو اور اللہ ہی کا عہد پورا کرو یہ تمہیں تاکید فرمائی کہ کہیں تم نصیحت مانو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور یتیموں کے مال کے پاس نہ جاؤ مگر بہت اچھے طریقہ سے حتّٰی کہ وہ اپنی جوانی (کی عمر )کو پہنچ جائے اور ناپ اور تول انصاف کے ساتھ پورا کرو۔ ہم کسی جان پر اس کی طاقت کے برابر ہی بوجھ ڈالتے ہیں اور جب بات کرو تو عدل کرو اگرچہ تمہارے رشتے دار کا معاملہ ہو اور اللہ ہی کا عہد پورا کرو۔ (اللہ نے) تمہیں یہ تاکید فرمائی ہے تاکہ نصیحت حاصل کرو۔
{ وَلَا تَقْرَبُوۡا مَالَ الْیَتِیۡمِ:اور یتیموں کے مال کے پاس نہ جاؤ۔} یعنی یتیم کے مال کے پاس اس طریقے سے جاؤ جس سے اس کا فائدہ ہو اور جب وہ اپنی جوانی کی عمر کو پہنچ جائے اس وقت اس کا مال اس کے سپرد کردو۔ اس حکم کی تفصیل اور یتیموں سے متعلق مزید احکام سورۂ نساء کی ابتدائی چند آیات میں گزر چکے ہیں۔
{ وَ اَوْفُوا الْکَیۡلَ وَالْمِیۡزَانَ بِالْقِسْطِ:اور ناپ اور تول انصاف کے ساتھ پورا کرو۔} یعنی ناپ تول میں کمی نہ کرو کیونکہ یہ حرام ہے ۔
ناپ تول میں کمی کرنے کی 2وَعِیدیں :
ناپ تول میں کمی کرنے پر احادیث میں سخت وعید یں بیان کی گئی ہیں ، ان میں سے 2 وعیدیں درج ذیل ہیں :