Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
243 - 558
اللہ تعالیٰ کے خوف سے حرام کام چھوڑنے کی فضیلت:
	 حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے، حضورِ اقدسصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جو شخص حرام پر قادر ہو پھر اسے اللہ تعالیٰ کے خوف سے چھوڑ دے تواللہ تعالیٰ آخرت سے پہلے دنیا میں ہی بہت جلد اُس کا ایسا بدل عطا فرماتا ہے جو حرام سے کہیں بہتر ہو۔ (1)
{ وَ اِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوۡا:اور جب بات کہو تو انصاف کی کہو۔} یعنی خوا ہ گواہی دو یا فتویٰ دویا حاکم بن کر فیصلہ کر و کچھ بھی ہو انصاف سے ہو اس میں قرابت یا وجاہت کا لحاظ نہ ہو کیونکہ اس سے مقصود شرعی حکم کی پیروی اور اللہ تعالیٰ کی رضا طلب کرنا ہوتا ہے اور اس میں اجنبی اور قرابت دار کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ (2)
{ وَ بِعَہۡدِ اللہِ اَوْفُوۡا:اور اللہ ہی کا عہد پورا کرو۔} یعنی صرف اللہ عَزَّوَجَلَّکے عہد پورے کرو اور اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں کسی کے عہد پورے نہ کرو، اگر تم نے غلطی سے کسی سے ناجائز عہد کر لیا تو فوراً توڑ دو، مثلاً اگرکسی سے وعدہ کیا بلکہ قسم کھائی کہ اس کے ساتھ شراب پئیں گے یا چوری کریں گے تو یہ وعدہ توڑ دو اور قسم کا کفارہ دے دو۔ آیت میں ’’عَہْد اللہ‘‘ سے مراد وہ عہد ہے جو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنے بندوں پر لازم فرمایا یعنی وہ احکام جو نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکے ذریعے ملے یا وہ عہد مراد ہے جو انسان اپنے اوپر لازم کر لے جیسے منت وغیرہ، ان سب کو پورا کرنے کا حکم ہے۔ (3)
 عہد شکنی پر وعید :
	حضرت عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے ،حضورپر نورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: ’’ قیامت کے دن جب اللہتعالیٰ اَوّلین و آخِرین کو جمع فرمائے گاتو عہد توڑنے والے ہر شخص کے لئے ایک جھنڈا بلند کیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہ فلاں بن فلاں کی عہد شکنی کا جھنڈا ہے۔ (4)
	بندوں کے ساتھ کئے گئے جائز عہدوں کو پورا کرنے کا بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ نے حکم دیا ہے لہٰذا ان کا پورا کرنا بھی عہد ِ الٰہی کو پورا کرنے میں داخل ہوگا۔ 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…تفسیر طبری، الاسرائ، تحت الآیۃ: ۳۵، ۸/۷۹۔
2…روح البیان، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۵۲، ۳/۱۱۹۔
3…خازن، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۵۲، ۲/۶۹۔
4…بخاری، کتاب الادب، باب ما یدعی الناس بآبائہم، ۴/۱۴۹، الحدیث: ۶۱۷۷، مسلم کتاب الجہاد والسیر، باب تحریم الغدر، ص۹۵۵، الحدیث: ۹(۱۷۳۵)۔