ترجمۂکنزُالعِرفان: اور مویشیوں میں سے کچھ بوجھ اٹھانے والے اور کچھ زمین پر بچھے ہوئے جانور (پیداکئے)۔ اللہ نے تمہیں جو رزق عطا فرمایا ہے اس میں سے کھاؤ اور شیطان کے راستوں پر نہ چلو۔ بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔
{ وَ مِنَ الۡاَنْعٰمِ:اور مویشی میں سے کچھ ۔} چوپائے دو طرح کے ہوتے ہیں کچھ بڑے جو بو جھ لادنے اور بار برداری کے کام میں آتے ہیں جیسے اونٹ، خچر اور گھوڑے وغیرہ اور کچھ چھوٹے جیسے بکری وغیرہ کہ جو اس قابل نہیں۔ ان میں سے جواللہ تعالیٰ نے حلال کئے انہیں کھاؤ اور اہلِ جاہلیت کی طرح اللہ عَزَّوَجَلَّ کی حلال فرمائی ہوئی چیزوں کو حرام نہ ٹھہراؤ۔
ثَمٰنِیَۃَ اَزْوٰجٍ ۚ مِنَ الضَّاۡنِ اثْنَیۡنِ وَ مِنَ الْمَعْزِاثْنَیۡنِ ؕ قُلْ ءٰٓالذَّکَرَیۡنِ حَرَّمَ اَمِ الۡاُنۡثَیَیۡنِ اَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَیۡہِ اَرْحَامُ الۡاُنۡثَیَیۡنِ ؕ نَبِّـُٔوۡنِیۡ بِعِلْمٍ اِنۡ کُنۡتُمْ صٰدِقِیۡنَ ﴿۱۴۳﴾ۙ
ترجمۂکنزالایمان: آٹھ نر اور مادہ ایک جوڑا بھیڑ کا اور ایک جوڑا بکری کا تم فرماؤ کیا اس نے دونوں نر حرام کیے یا دونوں مادہ یا وہ جسے دونوں مادہ پیٹ میں لیے ہیں کسی علم سے بتاؤ اگر تم سچے ہو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: (اللہ نے) آٹھ نر و مادہ جوڑے (پیدا کئے۔) ایک جوڑا بھیڑ سے اور ایک جوڑا بکری سے۔ تم فرماؤ، کیا اس نے دونوں نر حرام کیے یا دونوں مادہ یا وہ جسے دونوں مادہ جانور پیٹوں میں لئے ہوئے ہیں ؟ اگر تم سچے ہو تو علم کے ساتھ بتاؤ۔
{ ثَمٰنِیَۃَ اَزْوٰجٍ:آٹھ نر و مادہ۔} اس آیت میں جانورں کے آٹھ جوڑے بیان کئے گئے یعنی نرومادہ اونٹ، گائے، بھیڑ، بکری کے جوڑے۔ جانور تو اس کے علاوہ بھی ہیں لیکن چونکہ اہلِ عرب کے سامنے زیادہ تریہی جانور ہوتے تھے اور حرام و حلال کے جو انہوں نے قاعدے بنائے تھے وہ بھی انہی جانوروں کے بارے میں تھے اس لئے بطورِ خاص انہی جوڑوں کا بیان کیا گیا چنانچہ فرمایا کہ کیا ان جانوروں کے صرف نر حرام ہیں یا صرف مادے یا نرومادہ دونوں ؟ اللہ تعالیٰ نے نہ تو بھیڑ بکری کے نَر حرام کئے اور نہ اُن کی مادائیں حرام کیں اور نہ اُن کی اولاد ۔ تمہارا یہ فعل کہ کبھی نر حرام ٹھہراؤ کبھی مادہ کبھی اُن