Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
227 - 558
کے بچّے یہ سب تمہاری اپنی اِختراع ہے جس کی کوئی بنیاد نہیں۔
{ نَبِّـُٔوۡنِیۡ بِعِلْمٍ اِنۡ کُنۡتُمْ صٰدِقِیۡنَ:اگر تم سچے ہو تو علم کے ساتھ بتاؤ۔}یعنی ان جانوروں کو تم حرام مانتے ہو،اگر اس میں تم سچے ہو تو اس حرمت کی قطعی یقینی دلیل لاؤ۔
 دلیل دینا حرمت کا دعویٰ کرنے والے پر لازم ہے:
	اس سے معلوم ہوا کہ حلت کا دعویٰ کرنے والے سے دلیل نہ مانگی جائے گی بلکہ حرمت کا دعویٰ کرنے والے پر دلیل لانا لازم ہے۔ آج کل بدمذہب ہم سے ہر چیز کی حلت پر دلیل مانگتے ہیں اور خود حرمت کی دلیل نہیں پیش کرتے۔ یہ اصول قرآن کے صریح خلاف ہے۔ خود غور کر لیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان جانوروں کے حرام ماننے والوں سے دلیل مانگی ہے یا حلال سمجھنے والوں سے۔ 
وَ مِنَ الۡاِبِلِ اثْنَیۡنِ وَ مِنَ الْبَقَرِ اثْنَیۡنِ ؕ قُلْ ءٰٓالذَّکَرَیۡنِ حَرَّمَ اَمِ الۡاُنۡثَیَیۡنِ اَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَیۡہِ اَرْحَامُ الۡاُنۡثَیَیۡنِ ؕ اَمْ کُنۡتُمْ شُہَدَآءَ اِذْ وَصّٰکُمُ اللہُ بِہٰذَا ۚ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللہِ کَذِبًا لِّیُضِلَّ النَّاسَ بِغَیۡرِ عِلْمٍ ؕ اِنَّ اللہَ لَایَہۡدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۱۴۴﴾٪  

ترجمۂکنزالایمان: اور ایک جوڑا اونٹ کا اور ایک جوڑا گائے کا تم فرماؤ کیا اس نے دونوں نر حرام کیے یا دونوں مادہ یا وہ جسے دونوں مادہ پیٹ میں لیے ہیں کیا تم موجود تھے جب اللہ نے تمہیں یہ حکم دیا تو اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ پر جھوٹ باندھے کہ لوگوں کو اپنی جہالت سے گمراہ کرے بیشک اللہ ظالموں کو راہ نہیں دکھاتا۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: اور (اللہ نے نر اور مادہ کا) ایک جوڑا اونٹ سے اور ایک جوڑا گائے سے (پیدا فرمایا۔) تم فرماؤ، کیا اس نے دونوں نر حرام کیے یا دونوں مادہ یا وہ جسے دونوں مادہ جانور اپنے پیٹوں میں لئے ہوئے ہیں ؟کیا تم اس وقت موجود تھے