Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
224 - 558
 وَ الزَّرْعَ مُخْتَلِفًا اُکُلُہٗ وَ الزَّیۡتُوۡنَ وَالرُّمَّانَ مُتَشٰبِہًا وَّغَیۡرَ مُتَشٰبِہٍ ؕ کُلُوۡا مِنۡ ثَمَرِہٖۤ اِذَاۤ اَثْمَرَ وَاٰتُوۡا حَقَّہٗ یَوْمَ حَصَادِہٖ ۫ۖ وَلَا تُسْرِفُوۡا ؕ اِنَّہٗ لَایُحِبُّ الْمُسْرِفِیۡنَ ﴿۱۴۱﴾ۙ 
ترجمۂکنزالایمان: اور وہی ہے جس نے پیدا کیے باغ کچھ زمین پر چھئے  ہوئے اور کچھ بے چھئے اور کھجور اور کھیتی جس میں رنگ رنگ کے کھانے اور زیتون اور انار کسی بات میں ملتے اور کسی میں الگ کھاؤ اس کا پھل جب پھل لائے اور اس کا حق دو جس دن کٹے اور بے جا نہ خرچو بیشک بے جا خرچنے والے اسے پسند نہیں۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: اور وہی ہے جس نے کچھ باغات زمین پر پھیلے ہوئے اور کچھ نہ پھیلے ہوئے (تنوں والے) اور کھجور اور کھیتی کو پیدا کیا جن کے کھانے مختلف ہیں اور زیتون اور انار (کو پیدا کیا، یہ سب) کسی بات میں آپس میں ملتے ہیں اور کسی میں نہیں ملتے۔ جب وہ درخت پھل لائے تو اس کے پھل سے کھاؤ اور اس کی کٹائی کے دن اس کا حق دو اور فضول خرچی نہ کرو بیشک وہ فضول خرچی کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔ 
{ وَ ہُوَ الَّذِیۡۤ اَنۡشَاَ جَنّٰتٍ:اور وہی ہے جس نے باغ پیدا کیے۔} اللہ تعالیٰ نے کچھ باغات ایسے پیدا فرمائے جو زمین پر پھیلے ہوئے ہیں جیسے خربوزہ، تربوز اور دیگر بیل بوٹے وغیرہ اور کچھ ایسے پیدا فرمائے جو زمین پر پھیلے ہوئے نہیں بلکہ تنے والے ہیں جیسے آم، امرود اور مالٹا وغیرہ کے باغات، اسی طرح کھجور اور کھیتی، انار اور زیتون کوپیدا فرمایا اور اس میں اللہ  عَزَّوَجَلَّ کی عجیب قدرت ہے کہ ان پھلوں میں تاثیر اور ذائقے کے اعتبار سے  تو فرق ہوتا ہے لیکن رنگ اور پتوں کے اعتبار سے بہت مشابہت ہوتی ہے۔ 
{ وَاٰتُوۡا حَقَّہٗ یَوْمَ حَصَادِہٖ:اور اس کی کٹائی کے دن اس کا حق دو۔} یہاں فصلوں کا حق ادا کرنے کا حکم ہے، اس میں سب سے اول تو عشر یعنی پیدا وار کا دسواں حصہ یا نصف عشر یعنی پیداوار کا بیسیواں حصہ داخل ہے اور اس کے علاوہ مساکین کو کچھ پھل وغیرہ دینا بھی پیداوار کے حقوق میں آتا ہے۔