پورے کریں گے اور یہ عمل خاص طور پر اس وقت کرتے ہیں جب انہیں معلوم ہوجاتا ہے کہ ماں کے پیٹ میں پلنے والی جان بچی ہے۔ افسوس کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کو رازق ماننے والے بھی اس فعلِ قبیح کا اِرتِکاب کررہے ہیں۔
یہاں ایک مسئلہ یاد رہے کہ ’’ جب حمل میں جان پڑجائے جس کی مدت علماء نے چار مہینے بیان کی ہے توحمل گرانا حرام ہے کہ یہ بھی اولاد کا قتل ہے اور اس سے پہلے اگر شرعی ضرورت ہو تو اِسقاطِ حمل جائز ہے۔ (1)
{ وَحَرَّمُوۡا:حرام قرار دیتے ہیں۔} یعنی مشرکینِ عرب بحیرہ ،سائبہ اور حامی وغیرہ جن جانوروں کا اوپر ذکر ہوا انہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ پر جھوٹ باندھتے ہوئے حرام قرار دیتے ہیں کیونکہ وہ یہ گمان کرتے ہیں کہ ایسے مذموم افعال کا اللہ عَزَّوَجَلَّ نے حکم دیا ہے ان کا یہ خیال اللہ عَزَّوَجَلَّ پرافتراء ہے۔
ہر چیز میں اصل اباحت ہے:
اس سے معلوم ہوا کہ ہر چیز میں اصل اباحت ہے، کیونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ہر چیز ہمارے رزق کے لئے پیدا فرمائی، ان میں سے جسے حرام فرما دیا وہ حرام ہے اور جسے حلال فرمایا یا جس سے سکوت فرمایا وہ حلال ہے۔ قرآنِ پاک میں ہے:
’’ ہُوَ الَّذِیۡ خَلَقَ لَکُمۡ مَّا فِی الۡاَرْضِ جَمِیۡعًا ‘‘(2)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اس نے جو کچھ زمین میں ہے سب تمہارے لئے بنایا۔
حضرت سلمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا’’ حلال وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں حلال کیا اور حرام وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں حرام کیا اور جس سے خاموشی فرمائی تو وہ اس میں سے ہے جس سے معافی دی۔ (3) حضرت علامہ ملا علی قاری رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’ ’ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اشیاء میں اصل اباحت ہے۔ ( یعنی جس چیز کی حلت و حرمت سے متعلق قرآن و حدیث میں خاموشی ہو وہ حلال ہے۔) (4)
وَ ہُوَ الَّذِیۡۤ اَنۡشَاَ جَنّٰتٍ مَّعْرُوْشٰتٍ وَّ غَیۡرَ مَعْرُوۡشٰتٍ وَّ النَّخْلَ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…فتاوی رضویہ، ۲۴/ ۲۰۱،۲۰۷۔
2…بقرہ:۲۹۔
3…ترمذی، کتاب اللباس، باب ما جاء فی لبس الفرائ، ۳/۲۸۰، الحدیث: ۱۷۳۲۔
4…مرقاۃ المفاتیح، کتاب الاطعمۃ، الفصل الثانی،۸/۵۷، تحت الحدیث: ۴۲۲۸۔