ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک وہ لوگ تباہ ہوگئے جواپنی اولاد کوجہالت سے بیوقوفی کرتے ہوئے قتل کرتے ہیں اور اللہ نے جو رزق انہیں عطا فرمایا ہے اسے اللہ پر جھوٹ باندھتے ہوئے حرام قرار دیتے ہیں۔ بیشک یہ لوگ گمراہ ہوئے اور یہ ہدایت والے نہیں ہیں۔
{ قَدْ خَسِرَ الَّذِیۡنَ قَتَلُوۡۤا اَوْلٰدَہُمْ:بیشک وہ لوگ تباہ ہوگئے جواپنی اولاد کو قتل کرتے ہیں۔} شا نِ نزول: یہ آیت زمانۂ جاہلیت کے اُن لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جو اپنی لڑکیوں کو نہایت سنگ دلی اور بے رحمی کے ساتھ زندہ درگور کر دیا کرتے تھے۔ قبیلہ ربیعہ اور مُضَر وغیرہ قبائل میں اس کا بہت رواج تھا اور جاہلیت کے بعض لوگ لڑکوں کو بھی قتل کرتے تھے اور بے رحمی کا یہ عالم تھا کہ کتّوں کی پرورش کرتے اور اولاد کو قتل کرتے تھے۔ اُن کی نسبت یہ ارشاد ہوا کہ ’’ وہ تباہ ہوئے‘‘ اس میں شک نہیں کہ اولا د اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے اور اس کی ہلاکت سے اپنی تعداد کم ہوتی ہے، اپنی نسل مٹتی ہے، یہ دنیا کا خسارہ ہے، گھر کی تباہی ہے اور آخرت میں اس پر عذابِ عظیم ہے، تو یہ عمل دنیا اور آخرت میں تباہی کا باعث ہوا اور اپنی دنیا اور آخرت دونوں کو تباہ کرلینا اور اولاد جیسی عزیز اور پیاری چیز کے ساتھ اس قسم کی سفاکی اور بے دردی گوارا کرنا انتہا درجہ کی حماقت اور جہالت ہے۔
اولاد کے قاتلوں کو نصیحت:
دورِ جاہلیت میں اولاد کو قتل کرنے کے بنیادی اسباب میں سے ایک سبب یہ بھی تھا کہ انہیں تنگدستی کا خوف لاحق ہوتا اور وہ اس ڈر سے اپنی اولاد کو قتل کر دیتے تھے کہ انہیں کھلائیں پلائیں گے کہا ں سے اور ان کے لباس اور دیگر ضروریات کا انتظام کیسے کریں گے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس حرکت سے منع کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
’’ وَ لَا تَقْتُلُوۡۤا اَوْلٰدَکُمْ خَشْیَۃَ اِمْلٰقٍ ؕ نَحْنُ نَرْزُقُہُمْ وَ اِیَّاکُمۡ ؕ اِنَّ قَتْلَہُمْ کَانَ خِطْاً کَبِیۡرًا ﴿۳۱﴾‘‘ (1)
ترجمۂکنزُالعِرفان:اور غربت کے ڈر سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرو، ہم انہیں بھی رزق دیں گے اور تمہیں بھی، بیشک انہیں قتل کرناکبیرہ گناہ ہے۔
افسوس! فی زمانہ بہت سے مسلمان بھی دورِ جاہلیت کے کفار کا طریقہ اختیار کئے ہوئے ہیں اور وہ بھی اس ڈر سے دنیا میں آتے ہی یا ماں کے پیٹ میں ہی بچے کوقتل کروا دیتے ہیں کہ ان کی پرورش اور تعلیم و تربیت کے اخراجات کہاں سے
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…بنی اسرائیل:۳۱۔