Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
221 - 558
 بتوں کے نام پر ذبح کرنا۔ یہ کام بھی شرک ہے اور اس کا کھانا بھی حرام ہے اور یہ ’’ وَمَاۤ اُہِلَّ بِہٖ لِغَیۡرِ اللہِ ‘‘ میں داخل ہے۔
وَ قَالُوۡا مَا فِیۡ بُطُوۡنِ ہٰذِہِ الۡاَنْعٰمِ خَالِصَۃٌ لِّذُکُوۡرِنَا وَ مُحَرَّمٌ عَلٰۤی اَزْوٰجِنَا ۚ وَ اِنۡ یَّکُنۡ مَّیۡتَۃً فَہُمْ فِیۡہِ شُرَکَآءُ ؕ سَیَجْزِیۡہِمْ وَصْفَہُمْ ؕ اِنَّہٗ حَکِیۡمٌ عَلِیۡمٌ ﴿۱۳۹﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور بولے جو ان مویشی کے پیٹ میں ہے وہ نرا ہمارے مردوں کا ہے اور ہماری عورتوں پر حرام ہے اور مرا ہوا نکلے تو وہ سب اس میں شریک ہیں قریب ہے کہ اللہ انہیں اِن کی باتوں کا بدلہ دے گا بیشک وہ علم حکمت والا ہے۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: اور کہتے ہیں : ان مویشیوں کے پیٹ میں جو ہے وہ خالص ہمارے مردوں کیلئے ہے اور ہماری عورتوں پر حرام ہے اور اگر وہ مرا ہوا ہو تو پھر سب اس میں شریک ہیں۔ عنقریب اللہ انہیں اِن کی باتوں کا بدلہ دے گا۔ بیشک وہ حکمت والا، علم والا ہے۔
{ وَ قَالُوۡا:اور کہتے ہیں۔}کفارِ عرب کا عقیدہ تھا کہ بحیرہ، سائبہ، اونٹنی کا بچہ اگرزندہ پیدا ہو تو صرف مرد کھا سکتے ہیں اور عورتیں نہیں کھا سکتیں اور اگر مردہ پیدا ہو تو عورت مرد سب کھا سکتے ہیں۔ اس آیت میں ان کے اس عقیدے کا ذکر ہے اور اس پر سخت وعید ہے۔
قَدْ خَسِرَ الَّذِیۡنَ قَتَلُوۡۤا اَوْلٰدَہُمْ سَفَہًۢا بِغَیۡرِ عِلْمٍ وَّحَرَّمُوۡا مَا رَزَقَہُمُ اللہُ افْتِرَآءً عَلَی اللہِ ؕ قَدْ ضَلُّوۡا وَ مَا کَانُوۡا مُہۡتَدِیۡنَ ﴿۱۴۰﴾٪ 
ترجمۂکنزالایمان: بیشک تباہ ہوئے وہ جو اپنی اولاد کو قتل کرتے ہیں احمقانہ جہالت سے اور حرام ٹھہراتے ہیں وہ جو اللہ نے انہیں روزی دی اللہ پر جھوٹ باندھنے کو بیشک وہ بہکے اور راہ نہ پائی۔